دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 52
52 دو د ظل اور بروز کے مذکورہ بالا اعتقادات کے ساتھ مرزا صاحب کے نزدیک خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس افاضہ کمال کی ایسی مہر تھی جو بالکل اپنے جیسے بلکہ اپنے سے بھی اعلیٰ اور افضل نبی تراشتی تھی۔“ (صفحہ کارروائی ۱۹۰۶) 66 مفتی محمود صاحب بالکل ایک خلاف واقعہ استدلال پیش کر کے اپنی تقریر میں جان ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مذکورہ بالا تحریرہ میں یہ کہیں ذکر نہیں کہ آنحضرت ﷺ سے افضل نبی پیدا ہو سکتا ہے بلکہ اس کے الفاظ اس حقیقت کو بالکل واضح کر کے پیش کر رہے ہیں تمام انبیاء میں آنحضرت ﷺ کا مقام سب سے افضل اور اعلیٰ ہے۔اس حوالے کے الفاظ مفتی صاحب اور ان کے ہمنو امولوی صاحبان کے الزامات کو واضح طور پر غلط ثابت کر رہے ہیں۔دعوی نبوت کا منطقی نتیجہ کیا تھا؟ غالباً جن مولوی صاحبان نے مفتی صاحب کی اس تقریر کولکھا تھا وہ اس مرحلہ پر پہنچ کر خود یہ محسوس کر رہے تھے کہ وہ ختم نبوت کے مسئلہ پر اپنے موقف کی تائید میں کوئی جاندار دلیل پیش نہیں کر سکے۔چنانچہ انہوں نے اس تقریر میں ان بیشتر دلائل کا جواب دینے کی کوئی کوشش نہیں کی جو کہ ختم نبوت کے مسئلہ پر جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں بیان کئے گئے تھے۔ہر محقق جماعت احمدیہ کے محضر نامہ کے باب نمبرے کا مطالعہ کر کے اور پھر اس کا موازنہ مفتی محمود صاحب کی تقریر سے کر کے دیکھ سکتا ہے کہ مفتی محمود صاحب نے آیت خاتم النبین کی تفسیر کے مسئلہ پر جماعت احمدیہ کے پیش کردہ اکثر دلائل کا کوئی جواب دینے کی کوشش تک نہیں کی۔یہ سوال لازماً اُٹھتا ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ آخر مفتی محمود صاحب اور ان کے ہمنوا ان کے ذکر سے بھی خائف کیوں تھے؟ چنانچہ متعلقہ موضوع سے گریز کر کے انہوں نے ایک اور سمت میں دلائل دینے کی کوشش کی۔انہوں نے یہ دلیل دینے کی کوشش کی کہ جب کبھی کسی نبی نے دعویٰ نبوت کیا تو اس کے نتیجہ میں ایک نے مذہب کی بنیاد پڑی ہے اور یہ کبھی نہیں ہوا کہ اس کے ماننے والے اور اس کا انکار کرنے والے ایک ہی مذہب کی طرف منسوب کہلائے ہوں اور اپنے دعوے کے حق میں انہوں نے مذاہب عالم کی تاریخ کو دلیل کے طور پر پیش کیا اور اپنی طرف سے یہ مثال بھی پیش کی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی