دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 45 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 45

45 ہی تھا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی رسول نہیں آ سکتا تھا تو پھر تو فرمان الہی یہ ہونا چاہیے تھا کہ اب تمہارے پاس میری طرف سے کوئی رسول نہیں آئے گا لیکن اس آیت کریمہ میں تو بالکل برعکس مضمون بیان ہو رہا ہے۔اس قسم کے ثبوت جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں شامل تھے اور ممبران قومی اسمبلی کے سامنے پڑھے گئے تھے لیکن مفتی محمود صاحب کے پاس ان دلائل کا کوئی جواب نہیں تھا جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ مفتی محمود صاحب ممبران اسمبلی کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے تھے جب بھی کوئی دعوی نبوت کرے تو مسلمانوں کا ایک ہی کام ہونا چاہیے اور وہ یہ کہ کسی دلیل کو نہ سنے بلکہ فوراً اس پر کفر کا فتویٰ لگا دے۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جب تمہارے پاس میری طرف سے رسول آئے تو جو تقویٰ اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرے گا تو وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جن پر کوئی خوف نہیں ہو گا۔اب ہر ایک کو اختیار ہے چاہے تو قرآن کریم کے ارشاد کو تسلیم کرے یا چا ہے تو مفتی محمود صاحب کے نظریات کو صحیح سمجھے۔یہاں ایک الجھن رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ یہ تو ایک علیحدہ بات ہے کہ مفتی محمود صاحب قرآنی آیات کی رو سے جماعت احمدیہ کے دلائل کا جواب نہیں دے سکے لیکن یہ تو سب جانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین آیت خاتم النبین یعنی سورۃ احزاب آیت ۴۱ کو اپنے خیالات کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ مفتی محمود صاحب اس آیت کریمہ کے ذکر سے بھی گریز کر رہے تھے۔بظاہر اس کی یہ وجہ نظر آتی ہے کہ عموماً جماعت احمدیہ کے مخالفین کی طرف سے یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ سورۃ احزاب میں آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین قرار دیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔جماعت احمد یہ کی طرف سے جو محضر نامہ پیش کیا اس میں سورۃ احزاب آیت ۴۱ پر لغوی بحث بھی کی گئی تھی۔اس بحث میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ لغوی طور پر بھی جماعت احمدیہ کے مخالفین کا استدلال درست نہیں ہے۔بہت سے شعراء کو خاتم الشعراء کہا گیا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے بعد کوئی شاعر پیدا نہیں ہوگا۔بہت سے اولیاء کو خاتم الاولیاء قرار دیا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے بعد کوئی