دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 2 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 2

2 امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے محضر نامہ پڑھا۔اس کے بعد جماعت احمدیہ کے وفد سے اور پھر غیر مبایعین احباب کے وفد سے سوال و جواب کا طویل سلسلہ چلا۔اس کے بعد اس کا رروائی نے ایک رنگ اختیار کیا اور اب اس خفیہ کارروائی میں جماعت احمدیہ کا وفد موجود نہیں تھا اور صرف ممبران اسمبلی موجود تھے۔اب جماعت احمدیہ کے مخالفین کا تحریر کیا ہوا موقف مفتی محمود صاحب پیش کر رہے تھے لیکن اس کی تیاری میں جماعت احمدیہ کے مخالف علماء اور ممبران اسمبلی نے مشترکہ طور پر کوشش کی تھی۔قومی اسمبلی کی خفیہ کارروائی شائع ہونے سے قبل بھی اس تقریر کو کتابی صورت میں بار بار ” قادیانی فتنہ اور امت مسلمہ کا موقف کے نام سے شائع کیا گیا اور یہ دعویٰ پیش کیا گیا کہ یہ امت مسلمہ کا مشترکہ موقف تھا جس کو سننے کے بعد قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دے دیا۔اسی اشاعت کے پیش لفظ میں یہ تفصیلات بھی بیان کی گئیں کہ اس کی تیاری میں پروفیسر غفور احمد صاحب ، شاہ احمد نورانی صاحب مفتی محمود صاحب ، مولوی سمیع الحق صاحب محمد حیات صاحب وغیرہ نے مدد فراہم کی۔اس کتاب میں ہم اس تقریر یا مخالفین جماعت کے محضر نامے کا تجزیہ پیش کریں گے لیکن اس تجز یہ کو پیش کرنے سے قبل کچھ اصول درج کرنا ضروری ہیں جن کی بنیاد پر اس کا منصفانہ تجزیہ ہونا ضروری ہے۔ا۔اس سپیشل کمیٹی کا قیام ایک خاص سوال پر غور کرنے کے لیے ہوا تھا۔کیا اس تقریر کا مواد اس سوال پر مرکوز تھایا پہلے کی طرح غیر متعلقہ نکات بیان کر کے وقت گزارا گیا تھا؟ ۲۔جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں اور اس کے بعد سوال و جواب کے دوران جماعت احمدیہ کی طرف سے اپنے موقف کے حق میں کئی دلایل پیش کیے گئے تھے۔اس بات کا تجزیہ ضروری ہے کہ کیا مفتی محمود صاحب نے اپنی تقریر میں ان کا رد کرنے کی طرف توجہ کی یا پھر اس سے گریز کیا گیا۔۔سوال و جواب کے دوران کئی روز جماعت احمدیہ پر طرح طرح کے اعتراضات کیے گئے تھے اور ان کے رد میں جماعت احمدیہ کی طرف سے دلائل پیش کیے گئے تھے۔اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کیا مفتی محمود صاحب نے صرف پرانے اعتراضات کو دہرانے پر ہی اکتفا کی یا پھر جماعت احمدیہ کے پیش کردہ دلائل کا توڑ پیش کیا ؟