دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 32 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 32

32 ’یاد رہے کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد اس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحب شریعت ہو یا بلا واسطہ متابعت آنحضرت ﷺ وحی پاسکتا ہو بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے اور متابعت نبوی سے نعمت وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔وہ وحی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہیں ہوگی مگر نبوت شریعت والی یا نبوت مستقلہ منقطع ہو چکی ہے۔“ ریویو بر مباحثہ بٹالوی چکڑالوی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱۳) یہ واضح ارشادات حضرت مسیح موعود کی زندگی کے آخری سالوں میں تحریر کیے گئے تھے۔ان کی موجودگی میں مفتی محمود صاحب محض ایک بے بنیاد دعویٰ پیش کر رہے تھے۔اس ضمن میں انہوں نے ایک نہایت بودی دلیل پیش کی۔انہوں نے حضرت اقدس مسیح موعود کی تحریروں میں سے اربعین کا حوالہ پیش کیا کہ حضرت مسیح موعود نے تحریر فرمایا ہے کہ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“ (روحانی خزائن جلد۷ اصفحه ۴۳۵) ذرا ملاحظہ کیجئے مفتی محمود صاحب اس حوالے کو پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ نعوذ باللہ حضرت بانی جماعت احمدیہ کا دعوی صاحب شریعت نبی ہونے کا تھا حالانکہ جو حوالہ انہوں نے پڑھا اس میں واضح لکھا تھا کہ " اگر کہو کہ شریعت سے مراد وہ شریعت ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔“ اور حقیقت یہ ہے کہ مفتی محمود صاحب نامکمل حوالہ پڑھ کر خلاف واقعہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ اس کے آگے حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں: ”ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے تا ہم خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر یہ حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور