دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 29 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 29

29 کوئی نبی شرع ناسخ نہ لاوے گا۔سبکی نے اپنی تصنیف میں صراحت کی ہے اس بات کی کہ عیسی علیہ السلام ہمارے ہی نبی کی شریعت کا حکم دیں گے۔قرآن کریم کی رو سے اس سے یہ امر راج سمجھا جاتا ہے کہ وہ سنت کو جناب نبوت سے بطریق مشافہہ کے بغیر کسی واسطہ کے یا بطریق وحی والہام حاصل کریں گے۔“ اقتراب الساعة طبع مفید عام الکائنہ آگره ۱۳۰۱ ہجری صفحه ۱۶۲) اسی طرح مشہور کتاب روح المعانی میں صحیح مسلم میں حضرت نواس بن سمعان کی مروی حدیث کا ذکر کر کے لکھا ہے و تلك الوحى على لسان جبريل عليه السلام اذهو سفير بين الــلــه تـعـالـی و انبيائه و خبر لاوحی بعدی باطل و ما اشتهران ان جبريل صل الله۔عليه السلام لا ينزل الى الارض بعد موت النبي علم فهو لا اصل 66 (روح الـمـعـانـي مصنفه ابو الفضل شهاب الدين سيد محمود الالوسى بالمطبعه الكبرى الميريه ٥ الجزو سابع صفحه ۶۵) ترجمہ : اور یہ وحی حضرت جبریل علیہ السلام کی زبان سے ہو گی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء کے درمیان سفیر ہیں اور یہ امران کے علاوہ کسی اور میں معروف نہیں۔یہ خبر ( حدیث ) کہ لا وحــی بـعـدی جھوٹی ہے اور یہ جو مشہور ہو گیا ہے کہ الله حضرت جبریل علیہ السلام آنحضور ﷺ کی موت کے بعد زمین پر نہیں اتر تے تو اس کی کوئی اصل نہیں۔“ مفتی محمود صاحب یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ تمام مسلمانوں کا ہمیشہ سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی کو کسی قسم کی وحی نہیں ہو سکتی اور جو اس قسم کی وحی کا قائل ہو وہ ختم نبوت کا منکر اور کافر ہے۔ان مثالوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مفتی محمود صاحب بند دروازوں کے پیچھے قومی اسمبلی کے ممبران کے سامنے محض ایک خلاف واقعہ دعوی پیش کر رہے تھے۔۔