دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 28
اور وحی کسے کہتے ہیں؟ 28 حضرت مجد دالف ثانی" تحریر فرماتے ہیں کہ بہت سے بزرگان نے اللہ تعالیٰ سے کلام کیا ہے۔یہ بے سروسامان اپنے خیال میں ہر روز خدا کو دیکھتے ہیں حالانکہ محمد رسول اللہ ملے کے ایک دیدار میں بھی علماء کو قیل وقال ہے۔“ 66 دفتر اول مکتوب ۲۷۲ مکتوبات امام ربانی ، اردو ترجمه از محمد سعید احمد، ناشر مدینہ پبلیشنگ کمپنی جلد سوم صفحه ۷۲۲ ) مفتی محمود صاحب اور ان کے ہمنوا یہ عقیدہ پیش کر رہے تھے کہ آنحضرت عملے کے بعد اب کسی شخص کو وحی نہیں ہو سکتی اور اللہ تعالیٰ کسی شخص سے کلام نہیں کر سکتا اور یہ دعویٰ پیش کر رہے تھے کہ یہ عقیدہ ختم نبوت کے عقیدہ کا لازمی حصہ ہے اور جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ مسلمان نہیں کہلا سکتا اور جیسا کہ ہم حوالے درج کر چکے ہیں قرآنی آیات اور احادیث نبویہ صاف اعلان کر رہی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد وحی کا دروازہ بند نہیں ہوا۔حضرت مجددالف ثانی جیسے بزرگ اللہ تعالیٰ کے کلام سے مشرف ہونے کا اعلان کرتے رہے ہیں اور یہ بھی واضح ہے کہ دوسرے مشائخ بھی اللہ تعالیٰ سے شرف کلام حاصل کرتے رہے ہیں۔اس پس منظر میں یہ سوال لا زماً اُٹھتا ہے کہ کیا یہ مولوی حضرات ان عظیم الشان بزرگوں کو بھی مسلمان نہیں سمجھتے۔امام غزالی نے تو ایک حدیث کا حوالہ دے کر لکھا ہے اور حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے۔۔۔بے شک ہر ایک امت کے اندر اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے ہیں جن سے وہ ہم کلام ہوتا ہے اور میری امت میں بھی ایسے بندے ہیں جن سے وہ ہم کلام ہوتا ہے اور آپ نے اپنے بعض اصحاب کی طرف اشارہ فرمایا۔“ ( مجربات امام غزالی ترجمہ سید حافظ یاسین علی حسنی نظامی شائع کردہ الفیصل ناشران و تاجران کتب ۲۰۰۷ صفحه ۲۹۲٬۲۹۱) اور علماء اسلام میں یہ عقیدہ معروف ہے کہ جب مسیح موعود کا ظہور ہوگا تو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوگی۔اس عقیدہ کا ذکر کرتے ہوئے اہل حدیث کے عالم نورالحسن صاحب لکھتے ہیں : یہ قول اس قائل کا باطل ہے بلکہ کفر ہے حدیث لا وحی بعد موتی بے اصل ہے ہاں لا نبی بعدی آیا ہے اس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد