دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 220 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 220

220 اختتام: اس کتاب کے آغاز میں ہم نے چار سوال اُٹھائے تھے اور یہ لکھا تھا کہ یہ بنیادی نکات ہیں جن کو بنیاد بنا کر مفتی محمود صاحب کی تقریر کا منصفانہ تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔اب جبکہ مفتی محمود صاحب کی تقریر کی تفصیلات بیان کی جا چکی ہیں اور ان کی حقیقت بھی سامنے آ چکی ہے ان سوالات کے جوات درج کیے جاتے ہیں مفتی محمود صاحب زیادہ تر تقریر میں اس بات سے گریز کرتے رہے کہ وہ متعلقہ موضوع پر اپنے موقف کے حق میں ٹھوس دلائل پیش کریں۔اس پیشل کمیٹی کے سامنے زیر بحث موضوع یہ تھا کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہیں تسلیم کرتا اس کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟ مفتی محمود صاحب نے زیادہ تر وقت غیر متعلقہ موضوعات پر گفتگو کرنے میں ضائع کیا۔۔مفتی محمود صاحب جماعت احمدیہ کے محضر نامہ اور اس کی ضمیمہ جات میں درج دلائل کا کوئی جواب نہ دے سکے۔۔سوال و جواب کے دوران حضرت امام جماعت احمدیہ نے اپنے موقف کے حق میں جو دلائل بیان فرمائے تھے ، ان کا جواب دینا تو درکار مفتی محمود صاحب ان کا ذکر کرنے سے بھی گریز کرتے رہے۔مفتی محمود صاحب کا زیادہ تر زور اس بات پر ہی رہا کہ وہ کسی طرح جماعت احمد یہ پر زیادہ سے زیادہ الزامات لگا کر ممبران اسمبلی کو بھڑ کا سکیں۔اس غرض کے لیے انہوں نے بار بار جعلی حوالے اور جماعت احمدیہ کے لٹریچر سے تحریف شدہ اقتباسات پیش کیے۔انہوں نے تاریخی حقائق پیش کرنے کی بجائے ایسے من گھڑت افسانے پیش کیے جو کہ نہ صرف غلط بلکہ مضحکہ خیز بھی تھے۔