دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 219
219 حکمران سیاسی جماعت ایک مکتبہ فکر کے افراد کی ” قانونی تکفیر پر آمادہ ہو چکی ہے۔“ پنجابی طالبان، مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ ۲۰۱۱ صفحہ ۱۹۰) ، صفحه۱۹۰) پاکستان میں اہل تشیع اپنے مخالفین سے بہت کمزور ہیں اور تعداد سے لے کر عسکری طاقت اور جنگی تربیت تک کے معاملات میں ان کی پسماندگی بہت واضح ہے۔۱۹۷۷۰۰ء میں جیسے احمدیوں کو کافر قرار دیا گیا تھا تقریباً اسی طرح ۱۹۹۷ء میں انہیں بھی کا فرقرار دلوانے کی تحریک زور پکڑ گئی تھی لیکن ایران کی بروقت مداخلت اور وزیراع میاں نواز شریف کی بزدلی کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔سپاہ صحابہ نے جس طرح چابکدستی کے ساتھ ناموس صحابہ بل تیار کیا تھا اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوان اس پر بحث کی اجازت دے دیتے تو اکثریتی فیصلہ شیعوں کو اقلیت قرار دینے پر منتج ہوتا۔یہ ایک بات ہے کہ مخالف علماء نے جہاں تک ان کی رسائی ہے اہل تشیع کے ساتھ کفر کے فتوے کو چسپاں کرنے میں بہت حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔“ پنجابی طالبان ، مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ ۲۰۱۱ صفحه ۳۰۶،۳۰۵) پنجاب میں تحریک طالبان کے ورثاء جو تتر بتر شیعہ تنظیموں کو تقریباً شکست فاش دے چکے ہیں اب ان کے اگلے اہداف بریلوی مسالک کی تنظیمیں ہیں جبکہ پنجاب میں دیو بندیوں کے درمیان بھی واضح تقسیم دیکھی جاسکتی ہے جو تیزی کے ساتھ حیاتی اور مماتی کی عقیدہ جاتی شناختوں کو واضح کر رہے ہیں۔“ پنجابی طالبان ، مصنفہ مجاہد حسین، ناشر سانجھ لاہور مارچ ۲۰۱۱ صفحه ۲۷۵) اگران سخت گیر اسلام کے نفاذ کے داعیوں کے خصوصی اجتماعات یا خطبات کو سنا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شدت جذبات کا کیا حال ہے۔ان خطبات میں صوفیاء کے مزاروں اور خانقاہوں پر زائرین کے جانے کو شرک سے تعبیر کیا جاتا ہے اور مشرک کو بد 66 ترین شخص قرار دیا جاتا ہے جس کی سزا موت سے کہیں زیادہ ہے۔“ پنجابی طالبان ، مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ ۲۰۱۱ صفحه ۲۹۶)