دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 218
218 گا اور ان کے بچوں کو غلام بنا کر یا تو مسلمان کر لیا جائے گا یا پھر ان سے بیگا رلیا جائے گا۔( پنجابی طالبان، مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ ۲۰۱۱ ، صفحہ ۱۰۱) اس دیدہ دلیری سے خوف و ہراس کی فضا قائم کی جارہی ہے کہ پنجاب کے بعض علاقوں میں مسلمانوں کے ایک فرقہ سے منسلک افراد کے گھروں میں ایسے خطوط بھی بھیجے گئے جن میں یہ لکھا گیا تھا کہ وہ کا فر ہیں یا تو وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں۔ورنہ ان کے مردوں کو قتل کر کے ان کی لاشوں کو جلایا جائے گا۔ان کی عورتوں کو کنیزیں اور ان کے بچوں کو غلام بنایا جائے گا اور ان کی جائیدادوں کو مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے گا۔پنجابی طالبان، مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ ۲۰۱۱ صفحہ ۱۰۳) اور یہ فرقہ وارانہ تصادم صرف زبانی فتاوی یا فسادات کی صورت تک محدود نہ رہا بلکہ جنرل ضیاء صاحب کی آشیر باد سے اس نے پارا چنار جیسے علاقوں میں کھلم کھلا جنگ کی صورت اختیار کرلی۔(Sectarian War, by Khaled Ahmaed, published by Oxford 2013 p35) دہشت گردوں کی دیدہ دلیری اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ ملک کے سربراہ حکومت کو بھی دھمکیاں بھجواتے ہیں کہ اگر انہوں نے ان کی تنظیموں کے خلاف اقدامات بند نہ کیے تو انہیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔( پنجابی طالبان ، مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ ۲۰۱۱ صفحہ ۱۱۳) شدت پسندی کا یہ سرسام کبھی بھی ایک یا دو فرقوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک بعد دوسرا فرقہ اس کی زد میں آتا رہتا ہے۔۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ نے اپنے محضر نامہ میں اس حقیقت کی نشاندہی کر دی تھی اور بعد میں ظاہر ہونے والے حالات نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ جماعت احمدیہ کے وو خدشات سو فیصد صحیح ثابت ہوئے۔مجاہد حسین اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں: قومی اسمبلی اور سینٹ میں یہ بحث ہونے لگی کہ کون سا فرقہ کا فر ہے اور ایک مذہبی جماعت نے اپنے مخالف فرقہ کی تکفیر کے لیے ایوان میں با قاعدہ بل پیش کر دیا۔جواب میں دوسرے مسلک کی طرف سے بھی ایسا ہی ایک بل سامنے آ گیا اور یوں ۱۹۷۴ء کے بعد ایک بار پھر یہ محسوس کیا جانے لگا کہ سیاسی فوائد کے حصول کے لیے