دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 215 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 215

215 کے اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے اور پھر تفصیلی موقف پیش کیا کہ عالم اسلام میں باہمی فتاویٰ کفر غیر اہم علماء کی طرف سے پیش کیے گئے تھے۔ورنہ ہرا ہم ملی معاملہ میں تمام فرقہ اور ان کے علماء متحد ہیں۔مختصراً یہ کہ اس فیصلہ سے عالم اسلام میں اتحاد پیدا ہوگا اور کوئی فتنہ وفساد پیدا نہیں ہو گا۔اب اس فیصلہ کو چالیس سال سے زاید کا عرصہ گزر چکا ہے۔اب یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا ۱۹۷۴ء میں اس فیصلہ کے بعد عالم اسلام میں اتحاد میں اضافہ ہوا یا ان گنت فسادات کا رستہ کھل گیا اور یہ اتحاد پارہ پارہ کر دیا گیا۔کیا جماعت احمدیہ کے خدشات درست ثابت ہوئے یا جماعت احمدیہ کے مخالفین کے دعاوی صحیح نکلے۔اس موضوع پر بہت سی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ہم اپنی رائے لکھنے کی بجائے ان میں سے چند معروف کتب کے حوالے درج کریں گے جن سے حقیقت روز روشن کی طرح سامنے آجاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جس ضلع سے ۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف فسادات کا آغاز کیا گیا تھا اسی ضلع سے تکفیر کے عمل کو نئے سرے سے وسیع کرنے کے منحوس عمل کا آغاز بھی کیا گیا۔مجاہد حسین صاحب لکھتے ہیں اور پنجاب کے وسطی شہر جھنگ میں با اثر شیعہ جاگیرداروں کے خلاف ایک مقامی خطیب مولانا حق نواز جھنگوی نے بعض عقائد کی وجہ سے شیعہ فرقہ کی تکفیر کا نعرہ بلند کر دیا۔اگر چہ برصغیر میں دیو بندی اور اہل حدیث مکاتب فکر کی طرف سے اہل تشیع پر کفر کے فتاوی ملتے ہیں جبکہ دیگر مکاتب فکر بھی ایک دوسرے کے بارے میں تکفیر کے فتاوی جاری کرتے رہے ہیں لیکن ان فتاوی کی روشنی میں قتل و غارت گری کا بازار کہیں گرم نہیں ہوا تھا۔جھنگ میں فرقہ وارانہ فسادات نے زور پکڑا اور اطراف کے لوگ قتل ہونے لگے۔“ ( پنجابی طالبان ،مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ ۲۰۱۱ صفحہ۲۹) محققین یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جو شدت پسند علماء شیعہ احباب کے خلاف کفر کے فتوے دیتے ہیں ان کے نزدیک بھی دوسری آئینی ترمیم ان کے فتاوی کی تصدیق کرتی ہے۔66