دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 212 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 212

212 کے قریب ہے جنہیں مختلف ادوار میں نہ صرف مسلح تربیت فراہم کی گئی بلکہ انہیں مالی معاونت اور مرا کز بھی مہیا کیے گئے ہیں۔لہذا پاکستانی ریاست کو اب ایک ایسے دشمن کا سامنا ہے جو قبائلی علاقوں کے جنگجو مزاج تشدد پسندوں سے زیادہ قریب ہے۔“ پنجابی طالبان، مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ ۲۰۱۱ ، صفحہ ۹) آج پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں لاتعداد ایسی مساجد اور مدارس ہیں جو مقامی آبادیوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے زیادہ موثر کنٹرول رکھتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی حدود میں داخل ہونے کا رسک نہیں لے سکتے۔ان مساجد کے ائما اور مدارس کے مہتم نہ صرف مقامی سرکاری اداروں پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ مقامیوں کے جھگڑوں اور حتیٰ کہ زمینوں کے تنازعے خود حل کرتے ہیں۔مقامی افراد محض اس لیے ان مساجد اور مدارس میں اپنی شنوائی کے لیے نہیں جاتے کہ وہاں انہیں انصاف حاصل ہوگا اور تمام فیصلے جانبدارانہ اور مبنی برحق ہوں گے بلکہ وہ اس لیے وہاں کا رخ کرتے ہیں کہ مخالف فریق کو زیادہ سے زیادہ پریشان کیا جا سکے۔“ پنجابی طالبان ، مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ ۲۰۱۱ صفحہ ۴۷) لیکن یہ سب کچھ کس طرح شروع ہوا ؟ اس کو شروع کرنے والے کون تھے ؟ ان دہشت گردوں کے سرپرست کون تھے؟ مجاہد حسین صاحب کی تحقیق کے مطابق یہ آگ جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جماعت احمدیہ کی مخالفت کے نام پر شروع کی گئی تھی۔یہ آگ لگانے والے جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالف تھے اور ان کے سر پرستوں میں ایک اہم نام خود مفتی محمود صاحب کا بھی تھا جو کہ ۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ پر بغاوت اور ریاست کے اندر ریاست بنانے کا الزام لگا رہے تھے۔مجاہد حسین صاحب لکھتے ہیں ملتان کے رہائشی علامہ مسعود علوی کو پاکستان میں جہاد کا بانی کہا جاتا ہے۔پاکستان میں سب سے پہلی جہادی تنظیم جمیعت المجاہدین کی تشکیل انہی کے ہاتھوں ملتان کے مدرسہ خیر المدارس میں ہوگئی۔۔۔اس تنظیم کا سب سے پہلا نشانہ احمدی فرقہ بنا۔خیر المدارس اور دیگر مدرسوں کے طلباء کو عسکری