دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 211 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 211

211 بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور اس غرض کے لیے وہ ایک بڑی طاقت کو اپنا ہمنوا بھی بنا چکے ہیں اور اپنی فوج بھی تیار کر رہے ہیں۔گویا بعینہ وہی الزام جو کہ جماعت احمدیہ پر لگایا گیا تھا وہ بعد میں اسماعیلی فرقہ پر لگایا گیا (Sectarian War, by Khaled Ahmad, published by Oxford University Press Pakistan 2012,p197,201,211) لیکن ان الزامات کا ایک اور زاویہ سے بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔اب اس کا رروائی اور قومی اسمبلی کے فیصلہ کو چالیس برس گزر چکے ہیں۔اگر خدانخواستہ احمدیوں نے کوئی سازش کی تھی کہ پاکستان میں ریاست کے اندر ریاست بنائی جائے یا متوازی فوج کھڑی جائے تو اتنی دہائیوں میں اس کے کوئی آثار تو نظر آتے۔کہاں ہے وہ جماعت احمدیہ کی بنائی ہوئی متوازی فوج یا وہ خیالی ریاست جس سے ڈرانے کے لیے جماعت احمدیہ کے مخالفین اتنے برس کتنے ہی پاپڑ بیلیتے رہے۔یقینا اب تک ایسی کسی چیز کا کوئی وجود نظر نہیں آیا۔لیکن کیا پاکستان میں کہیں پر ریاست کے اندر ریاست کا یا کسی متوازی فوج کا کوئی وجود نظر آیا؟ اگر ایسا ہوا تو اس کا مجرم کون تھا ؟ ملک کی بدقسمتی ہے کہ کبھی سوات اور کبھی وزیرستان میں اور کبھی اور مقامات پر ایسے علاقے وجود میں آتے رہے جہاں پر پاکستان کی حکومت کا تسلط قائم نہ رہ سکا اور اس سے پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ایسا کرنے والے ان گروہوں سے تعلق رکھتے تھے جو جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالف کہلاتے تھے۔یہ عمل اتنا معروف ہے کہ کسی حوالے کی ضرورت نہیں لیکن ہم پھر بھی کچھ حوالے درج کر دیتے ہیں۔مجاہد حسین صاحب اپنی کتاب ” پنجابی طالبان“ میں لکھتے ہیں ” پنجاب کی موجودہ صورت حال کے تمام زاویے پاکستان کے ایسے شورش زدہ علاقوں سے مشابہت اختیار کر رہے ہیں جہاں آج عملی طور پر پاکستان کی رٹ قائم نہیں اور پاکستان کی افواج کو ایک پُر خطر جنگ کا سامنا ہے۔۔۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پنجاب میں ایسے جہادیوں اور فرقہ پرستوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ