دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 187
187 بلکہ یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ان علماء کے نام حکومت کو بھجوائیں گے۔واضح رہے کہ فقہ کی اصطلاح میں جو ملک دارالامان ہو یا دارالاسلام ہو اس کی حکومت کے خلاف جہاد نہیں ہوسکتا اور جو ملک دارالحرب ہو تو یا تو اس کی حکومت کے خلاف جہاد کیا جاتا ہے یا وہاں سے ہجرت کرنا مناسب ہوتا ہے۔یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ اگر انگریزوں کے تحت ہندوستان دارالحرب تھا تو یہ سب علماء وہاں پر کیا کر رہے تھے اور مفتی محمود صاحب کے مادر علمی دیو بند سمیت وہاں ان کے مدر سے کیوں قائم تھے یا تو انہیں برطانوی حکمرانوں کے خلاف جہاد شروع کرنا چاہیے تھا اور یا پھر وہاں سے ہجرت کر جانا چاہیے تھا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔دیو بند یا کسی اور مدرسہ سے جہاد کا علم بلند نہیں ہوا۔خود مفتی محمود صاحب نے ۱۹۴۷ء سے قبل انگریز حکمرانوں سے کوئی جہاد نہیں کیا۔یہ سب خیالات ۱۹۴۷ء کے بعد آئے تھے۔مفتی محمود صاحب نے تو کوئی حوالہ پیش نہیں کیا لیکن ہم اس بابت بہت سے حوالوں کے ساتھ حقائق پیش کریں گے۔1۔جیسا کہ ہم پہلے ذکر چکے ہیں کہ اس ضمن میں Hunter نے اپنی کتاب Indian Mussalmans میں اس بابت بہت سے علماء کے فتوے درج کیے گئے ہیں۔ان کے مطابق مکہ مکرمہ کے حنفی، مالکی اور شافعی مفتیوں نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ برطانیہ کے تحت ہندوستان دارالاسلام ہے۔ہندوستان کے مختلف مقامات کے بہت سے علماء کا مشترکہ فتویٰ درج ہے کہ انگریزوں کے تحت ہندوستان دارالاسلام ہے۔کلکتہ کی محمدن سوسائٹی کا اعلامیہ درج ہے کہ ہندوستان عین دار الاسلام ہے۔(The Indian Mussalmans, by W۔W۔Hunter, published by Sang-e-meel 1999, p 216-219) اس کے علاوہ اسی کتاب کے صفحہ ۱۷ا پر درج ہے کہ شیعہ حضرات کا یہ عقیدہ ہے کہ جب تک موعود امام کاظہور نہیں ہوتا کسی جہاد کا کوئی مقصد اور فائدہ نہیں ہے۔2۔ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی تنظیم آل انڈیا مسلم لیگ تھی۔۱۸۱۸ء کے آخر