دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 179
179 اور جو نہیں کرے گا اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔بعض ہوشمند لیڈ ر مثلاً قائد اعظم محمد علی جناح اور حسرت موہانی اس مہم جوئی کی مخالفت کر رہے تھے (صفحہ ۱۴۳)۔اب ہزاروں مہاجرین کابل میں جمع ہو رہے تھے اور افغانستان حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ جہاد شروع کیا جائے اور ہندوستان پر حملہ کیا جائے یا پھر اناطولیہ جا کر ترکی کی طرف سے جہاد شروع کیا جائے۔امیر امان اللہ اس وقت تک یہ کہہ رہے تھے کہ ابھی یہ مناسب نہیں بہتر ہوگا کہ کچھ ٹریننگ حاصل کر لی جائے۔پر ہندوستان سے آئے ہوئے لوگوں نے واضح کیا کہ وہ جہاد سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے۔احتجاج کیا گیا اور بعض مہاجرین کو گرفتار کر لیا گیا۔(صفحہ ۱۵۶) پہلے امیر امان اللہ نے یہ اعلان کیا کہ جب تک پہلے سے آئے مہاجرین کا انتظام نہیں ہو جاتا اس وقت تک مزید لوگ ہجرت کر کے نہ آئیں۔پھر مہاجرین میں سے بااثر قائدین کے سامنے اس بات کا اظہار کر دیا کہ اب ان کی برطانوی حکومت سے صلح ہوگئی ہے اس لیے افغانستان کو مرکز بنا کر برطانیہ کے خلاف جہاد کا ارادہ ترک کر دیں۔(صفحہ ۱۷۰) ہندوستان سے افغانستان جانے والے مسلمانوں کو جن کی تعداد ۶۰ ہزار کے قریب بیان کی جاتی ہے طرح طرح کے مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔آخر یہ مہم ناکام ہوئی اور تمام ہجرت کرنے والے واپس ہندوستان آگئے اور افغانستان سے ہندوستان فتح کرنے کا خواب پورا ہونا تو درکار یہ جنگ شروع بھی نہ کی جاسکی۔سرحد سے کابل تک کی سڑک پر کئی بدنصیب مہاجرین کی قبریں بنی نظر آ رہی تھیں۔امیر امان اللہ نے تو برطانیہ سے اپنے مقاصد شاید حاصل کر لیے ہوں لیکن یہ تحریک جو ان کی دلائی ہوئی امیدوں پر شروع کی گئی تھی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک تکلیف دہ المیہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ہزاروں مسلمان تباہ ہوئے ان کا مستقبل ختم ہو گیا۔ان میں سے کئی مر گئے۔بہت سے مسلمان جو سبز باغ دیکھتے گئے تھے ان گنت مصائب کا شکار ہو گئے۔(Pan Islam in India, by M۔Naeem Qureshi, published by Oxford 2009, p126-177)