دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 178
178 افغانستان کی سرزمین کے اندر جا کر کارروائی کرتے۔ابتدا میں افغانستان کو کچھ کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن جلد ہی ان کا راستہ روک لیا گیا۔دونوں طرف کا بھاری جنگی نقصان ہوا اور مذاکرات شروع ہوئے اور راولپنڈی میں معاہدہ طے پا گیا۔افغانستان کو سرحدی علاقوں پر دعوی تھا لیکن وہ ان میں سے کسی علاقے پر قبضہ نہ کر سکا۔البتہ معاہدہ کے وقت اسے اپنی علیحدہ خارجہ پالیسی کا اختیار حاصل ہو گیا۔یہ اختیار وہ محض ایک اعلان کے ذریعہ بھی حاصل کر سکتا تھا اس کے لیے اتنا جانی نقصان برداشت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔اس کے بعد جو حالات رونما ہوئے وہ آخر میں ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوئے۔اس بارے میں مکرم نعیم قریشی صاحب کی ایک کتاب Pan-Islam in British India کے ایک باب میں اس بابت سیر حاصل تحقیق پیش کی گئی ہے۔ہم اس کے چند نکات پیش کرتے ہیں۔۱۹۲۰ء میں امیر امان اللہ نے ایک بار پھر ہندوستان میں وہاں کے مسلمانوں کو اپنے مقاصد کے لیے ایک کھلونے کی طرح استعمال کیا۔اس کتاب کے صفحہ ۱۳۰، ۱۳۱ پر وہ لکھتے ہیں کہ فروری ۱۹۲۰ء میں امیر امان اللہ نے اعلان کیا کہ ہندوستان کے جو مسلمان اور ہندو ہندوستان سے افغانستان آنا چاہیں وہ ان کو خوش آمدید کہیں گے۔اسی طرح افغانستان کے وزیر خارجہ نے ہندوستان میں آکر بیان دیا جو لوگ ہندوستان کو چھوڑنے پر مجبور ہوں گے ، افغانستان انہیں خوش آمدید کہے گا۔مصنف تجزیہ کرتے ہیں کہ افغانستان کی طرف سے یہ اعلان صرف اس لیے کیا گیا تھا کہ اس سے برطانوی حکومت پر دباؤ پڑے گا اور اس سے افغانستان کو ان مذاکرات میں فایدہ ہوگا جو کہ وہ برطانوی حکومت سے کر رہے تھے لیکن ہندوستان کے مسلمانوں کا ایک جوشیلا طبقہ اچانک بھڑک اُٹھا اور یہ منصوبے بننے لگ گئے کہ ہندوستان کے مسلمان ہندوستان سے ہجرت کر کے افغانستان چلے جائیں گے اور وہاں سے جہاد کر کے ہندوستان کو آزاد کرائیں گے اور ہجرت کی کمیٹیاں بن گئیں اور ہجرت کا عمل شروع ہو گیا۔پھر افغانستان کے امیر کا ایک فرمان موصول ہوا کہ ہجرت کرنے والوں کو زمین دی جائے گی اور تین سال کے لیے قرضہ دیا جائے گا (صفحہ ۱۳۸)۔بعض مولوی صاحبان نے فتاوی دیئے کہ اب پہلے ہجرت اور پھر وہاں سے جہاد کرنا فرض ہو چکا ہے