دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 16 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 16

16 بھجواتے تھے تا کہ وہ حجاز جا کر وہاں کی خبریں لا کر انہیں دیں اور وہ یہ خبریں انگریز حکومت کو مہیا کریں۔ان میں سے ایک آدمی کا نام عبدالاحد کشمیری تھا۔بہر حال ان مخبریوں کا یہ نتیجہ ہوا تھا کہ جب محمود الحسن صاحب حجاز سے واپس آ رہے تھے تو انہیں گرفتار کر کے مالٹا پہنچا دیا گیا تھا۔جو خفیہ کا غذات اب منظر عام پر آئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دیو بند کے مولوی پہلے سے انگریز گورنر سے خفیہ روابط رکھے ہوئے تھے اور انہیں اطلاعات بھجواتے تھے۔چنانچہ مارچ ۱۹۱۵ء سے بھی پہلے جب دیو بند کے اساتذہ نے یہ محسوس کیا کہ ان کے بعض اسا تذہ پوری طرح حکومت کے وفادار نہیں ہیں تو انہوں گورنر صاحب کو یہ پیغام بھجوایا کہ مناسب ہوگا کہ آپ خود تشریف لا کر دیو بند کے مدرسہ کا دورہ فرمائیں کچھ تاخیر کے بعد گورنر صاحب نے یہ درخواست قبول کر لی اور دیوبند کا دورہ کیا اور دیو بند کے مولویوں نے انگریز گورنر James Meston صاحب کا پر تپاک خیر مقدم کیا اور ان رپورٹوں میں یو پی کی حکومت کے سیکریٹری کو بہت واضح طور پر یہ لکھا تھا کہ ہمارے دیو بند کے مولویوں سے بہت دوستانہ مراسم ہیں۔( یہ سب دستاویزات ملاحظہ کیجیے The Indian Muslims compiled by Shan Muhammad Vol 5 p46-54) جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ حجاز میں ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے اعلیٰ عہد یداروں اور ہندوستان سے آئے ہوئے کچھ لوگوں کے درمیان روابط پیدا ہونے کی اطلاعات ہندوستان کی حکومت کو ملی تھیں۔یہ اطلاعات برطانوی حکومت کے لیے اس لیے تشویشناک تھیں کہ ان روابط کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا تھا کہ انور پاشا اس وقت سلطنت عثمانیہ کے وزیر جنگ تھے۔کسی قسم کے روابط میں ان کا شامل ہونا اور وہ بھی حالت جنگ میں اپنے دارالحکومت کو چھوڑ کر حجاز آ کر شامل ہونا اس بات کا ثبوت تھا کہ ایک اعلیٰ پائے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا تھا کہ ہندوستان میں لوگوں کو برطانوی حکومت کے خلاف اٹھنے پر آمادہ کیا جائے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ محمود الحسن صاحب کے اس سفر میں مولوی حسین احمد مدنی صاحب بھی ان کے شریک سفر تھے۔انہوں نے محمود الحسن صاحب کے اس سفر کے حالات سفر نامہ اسیر مالٹا کے نام سے تحریر کیے تھے۔انہوں نے اس بات کا اعتراف