دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 173
173 اسرائیل کی حکومت کر رہی تھی۔اسرائیل میں مسلمانوں کے مذہبی مدارس اسرائیل سے مالی مدد لے رہے ہیں۔یہ احمدی مدر سے تو نہیں ہیں۔آخر کیوں لے رہے ہیں؟ حکومت پاکستان کی طرف سے جو کارروائی شائع ہوئی ہے اس میں جماعت احمدیہ حیفا کا ذکر ہے اور ان کے بجٹ کی کاپی دکھائی گئی ہے۔ذرا ملا حظہ کریں کہ حکومت پاکستان کی حکومت کی اشاعت کے مطابق اس جماعت کی آمد کہاں سے ہو رہی ہے؟ اس اشاعت کے مطابق اس کی آمد چندوں سے اور زکوۃ سے ہو رہی ہے اور یہ بھی جائزہ لیں کہ اس اشاعت کے مطابق بھی یہ غریبانہ آمد خرچ کہاں پر ہو رہی ہے؟ یہ آمد تبلیغ پر، تبلیغی مجالس پر تبلیغی سفروں پر اور اشاعت لٹریچر پر ہو رہی ہے۔یہ ہے جماعت احمدیہ کی شان کہ اپنی جیب سے چندے دیتے ہیں جو کہ اس ملک میں بھی تبلیغ اسلام پر صرف ہوتے ہیں اور جماعت احمدیہ کے مخالفین کو تنخواہیں اسرائیل کی حکومت دے رہی ہے اور یہ آمد کہاں خرچ ہو رہی ہے؟ اس کا جواب تو جماعت احمدیہ کے مخالفین ہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں۔جماعت احمد یہ حیفا کے بجٹ کا عکس جو قو می اسمبلی کی کارروائی میں شائع کیا گیا ہے وہ درج کیا جارہا ہے تا کہ ہر کوئی خود جائزہ لے سکے کہ حقیقت کیا ہے۔ہر صاحب شعور اس بات کو محسوس کر سکتا ہے کہ جس گروہ کو نا جائز ذرائع سے آمد ہورہی ہو اور جن کے مذموم مقاصد ہوں ان کے بجٹ اس طرح کے نہیں ہوتے۔مفتی محمود صاحب کا مزید انکشاف ’ اور جب عربوں کے قلب کا یہ رستا ہوا ناسور اسرائیل قائم ہوا تمام مسلمان ریاستوں نے اس وقت سے اب تک اس کا مقاطعہ کیا۔( کارروائی صفحہ ۲۰۴۶) مفتی محمود صاحب کا یہ دعویٰ بھی غلط تھا۔۱۹۷۴ء تک مسلمان ممالک میں سے پاکستان کے سب سے قریبی تعلقات ترکی اور ایران سے تھے۔یہ تینوں ممالک آرسی۔ڈی کے معاہدہ میں بھی شامل تھے۔حقیقت یہ ہے کہ ۲۸ / مارچ ۱۹۴۹ء کو ترکی نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا اور اس کے بعد ایران نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔دونوں ممالک کے اسرائیل سے قریبی تعلقات بھی رہے۔حیرت ہے کہ ان معروف حقائق کے باوجود مفتی محمود صاحب یہ خلاف واقعہ افسانے کس کو