دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 161
161 جماعت احمدیہ کا یہ موقف کیوں ہے؟ اس پہلو پر مفتی محمود صاحب نے روشنی نہیں ڈالی۔اب ہم اس ضمن میں کچھ تاریخی حقائق کا جائزہ پیش کریں گے۔۱۸۵۷ء کی جنگ کے بعد ہندوست<mark>ان</mark> میں برط<mark>ان</mark>وی راج کو اپنی عملداری میں جہاد کے کسی خاطر خواہ مسئلہ کا سامنا نہیں تھا۔اب اتنا عرصہ بعد اس دور کے خفیہ کا غذات سامنے آچکے ہیں اور متعدد کتب میں یہ دستاویزات من وعن بھی شائع ہو چکی ہیں۔<mark>ان</mark> میں برط<mark>ان</mark>وی حکمر<mark>ان</mark>وں کی آپس میں خط و کتابت بھی شامل ہے۔مثلاً Indian Muslims کے نام سے ش<mark>ان</mark> محمد صاحب نے اس قسم کی تاریخی دستاویزات شائع کی ہیں۔<mark>ان</mark> کے مطالعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ برط<mark>ان</mark>وی حکومت کو اس قسم کے کوئی خدشات لاحق نہیں تھے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے قیام سے بہت قبل ہی برط<mark>ان</mark>وی حکمر<mark>ان</mark>وں نے مستقبل میں اس قسم کے خدشات کے ازالہ کا کافی <mark>ان</mark>تظام کر لیا تھا۔اور وہ <mark>ان</mark>تظام یہ تھا کہ <mark>ان</mark>ہوں نے مختلف مسالک کے علماء سے اس قسم کے فتاویٰ حاصل کر لیے تھے اور <mark>ان</mark> علماء نے برط<mark>ان</mark>وی حکومت کی مدد کے لیے کثرت سے اس قسم کی تحریرات شائع کی تھیں کہ <mark>ان</mark>گریزوں کے خلاف جہاد یا جنگ کرنا قطعاً غیر اسلامی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جو مولوی صاحب<mark>ان</mark> بعد میں جماعت احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش رہے، برط<mark>ان</mark>وی حکومت کی مدد اور تعریف میں سب سے پیش پیش تھے۔ہم ایک نمایاں مثال پیش کرتے ہیں۔یہ تو سب ج<mark>ان</mark>تے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کے بعد مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب آپ کی مخالفت میں سب سے پیش پیش تھے۔اور یہی مولوی صاحب تھے جنہوں نے ۱۸۸۶ء میں رسالہ "الاقتصاد فی الجہاد تحریر فرمایا اور اس کے سرورق پر یہ لکھا ہوا تھا کہ پنجاب کے ہر دلعزیز گورنر چارلس <mark>ان</mark>ھین صاحب نے اس رسالہ کو اپنے نام سے Dedicate ہونا منظور فرمایا ہے۔اس رسالہ میں مولوی صاحب نے بڑی شد و مد سے یہ دلائل جمع کیے تھے کہ برط<mark>ان</mark>وی حکومت کے خلاف جہاد کسی طرح جائز نہیں۔(رسالہ اشاعۃ السنہ نمبر ۹ جلد ۹ صفحه ۷ ۲۵ تا ۳۴۳) اس رسالہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب یہ تحریر فرماتے ہیں: در جس شہر یا ملک میں مسلم<mark>ان</mark>وں کو مذہبی فرائض ادا کرنے کی آزادی حاصل ہو وہ شہر یا ملک