دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 148
148 کن کی طرف تھا ؟ اس کے بعد مفتی محمود صاحب جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ حوالوں کا جواب تو نہیں دے سکے البتہ انہوں نے ملاعلی قاری اور ابن عربی کی فتوحات مکیہ کے حوالے پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان حوالوں سے ملا علی قاری اور ابن عربی نے مفتی محمود صاحب کے موقف کی تائید ہوتی ہے۔جہاں تک ابن عربی کے حوالے کا تعلق ہے تو وہ بالکل غیر متعلقہ تھا کیونکہ اس میں شرعی نبوت کا ذکر تھا، امتی نبوت کا ذکر نہیں تھا اور جہاں تک ملاعلی قاری کا تعلق ہے تو مفتی محمود صاحب اس بات کی کوئی وضاحت نہیں پیش کر سکے انہوں نے اپنی مشہور تصنیف موضاعات کبیر میں واضح طور پر یہ لکھا ہے کہ خاتم النبیین کے تو یہ معنی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوسکتا جو آپ کے دین کو منسوخ کرے اور آپ کا امتی نہ ہو۔“ اس تحریر کے بعد کسی نے اس کی وجہ سے ان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگایا تھا۔مفتی محمود صاحب کے پیش کردہ حوالے کو پیش نظر رکھ کر زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی دو تحریروں میں تضاد ہے اور اس کی ذمہ داری جماعت احمد یہ پر نہیں ڈالی جاسکتی۔جماعت احمدیہ پر عالم اسلام کی دشمنی کے الزامات جماعت احمدیہ کے عقائد پر بحث اُٹھانے کی کوشش کے بعد اب مفتی محمود صاحب نے اپنی قرارداد کی ایک اور بنیاد بیان کرنی شروع کی۔اب وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ جماعت احمد یہ نعوذ باللہ ہمیشہ غیروں کے ہاتھ میں آلہ کار بن کر عالم اسلام کے مفادات کو نقصان پہنچاتی رہی ہے۔اس حصہ کا آغاز انہوں نے کس طرح کیا۔یہ ہم انہی کے الفاظ میں درج کر دیتے ہیں۔مفتی محمود صاحب نے کہا: ۳۰ / جون کو قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ہماری قرار داد میں مرزا غلام احمد کے جہاد کو ختم کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر ہے اور یہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا تھا اور یہ کہ مرزائی خواہ انہیں کوئی بھی نام دیا جائے