دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 149
149 اسلام کے فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی و بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ہم ان حسب ذیل چار باتوں کا جائزہ مرزائی تحریرات اور ان کی سرگرمیوں اور عزائم کی روشنی میں لیتے ہیں۔(۱) مرزائیت سامراجی اور استعماری مقاصد اور ارادوں کی پیداوار ہے۔(ب) ان مقاصد کے حصول کے لئے جہاد کو نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے عالم اسلام میں قطعی حرام ، نا جائز اور منسوخ کرانا۔(ج) ملت مسلمہ کے شیرازہ اتحاد اور وحدت ملت کو منتشر اور تباہ کرنا۔(1) پورے عالم اسلام اور پاکستان میں تخریبی اور جاسوسی سرگرمیاں۔( کارروائی صفحہ ۲۰۱۷) شاید وہ یہ بیان کرنا چاہتے تھے کہ برطانیہ کا تسلط بر صغیر پر کس طرح ہوا؟ اور وہ یہ بیان کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس سے قبل دنیا بھر میں یوروپی طاقتوں کی نو آبادیاں کس طرح قائم ہورہی تھیں لیکن وہ کسی نا معلوم وجہ سے براعظم افریقہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کی تاریخ بیان کرنی شروع کر دی وہ یہ بیان کر رہے تھے کہ کس طرح ہندوستان پر قابض ہونے سے پہلے یوروپی طاقتیں افریقہ پر قابض ہوئیں اور افریقہ کو آپس میں تقسیم کیا جس کے بعد انہوں نے ہندوستان پر قابض ہونے کا منصوبہ بنایا۔افریقہ کے سلسلہ میں انہوں نے جو دلچسپ حقائق بیان فرمائے وہ یہ تھے کہ اٹھارہویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں (یعنی ۱۷۵۰ اور ۱۸۰۰ کے درمیان ) یوروپی طاقتوں نے افریقہ کو جو تقسیم کیا تو یہ نقشہ سامنے آیا۔اٹلی صومالی لینڈ ( صومالیہ ) کے ایک حصہ پر قابض ہو گیا۔(حقیقت یہ ہے کہ اٹھارہویں صدی کے آخر میں اٹلی کا سومالی لینڈ پر کوئی قبضہ نہیں تھا۔انیسویں صدی کے آخر میں بعض معاہدوں کے نتیجہ میں برطانیہ اور اٹلی نے صومالیہ کے کچھ ساحلی علاقوں پر تسلط حاصل کیا تھا اور صومالیہ کے اندر درویش سلطنت قائم تھی۔اٹلی کا صومالیہ پر قبضہ ۱۹۴۰ء میں ہوا تھا اور اس وقت تک ہندوستان کو محکوم