دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 146 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 146

146 جماعت احمدیہ کے موقف کو درست اور مفتی محمود صاحب اور ان کے ہمنوا احباب کے موقف کو غلط ثابت کر رہا ہے۔حضرت مجدد الف ثانی کا ایک اور ارشاد درج کر کے اس ذکر کو ختم کرتے ہیں۔آپ صدر جہاں کے نام شرعی احکام کے نفاذ کے کام کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں آپ کو معلوم ہے کہ زمانہ سابق میں جو فساد پیدا ہوا تھا۔وہ علماء ہی کی کمبختی سے ظہور میں آیا تھا۔(مکتوب نمبر ۳۲۲) اللہ تعالیٰ سب کو اپنے فضل سے علماء سوء کے شر سے محفوظ رکھے۔کہنے کو تو مفتی محمود صاحب یہ دعوی ممبران قومی اسمبلی کے سامنے پیش کر چکے تھے کہ ختم نبوت کے مسئلہ پر ہمیشہ سے تمام امت کا موقف ان کے بیان کردہ موقف کے مطابق رہا ہے لیکن اس مسئلہ کا کیا کرتے کہ جماعت احمدیہ کے محضر نامہ اور اس کے ضمیمہ جات میں امت کے مجددین، نامور ترین علماء اور سلف صالحین کے بیسیوں ایسے حوالے پیش کئے گئے تھے جن سے واضح طور پر ثابت ہوتا تھا کہ یہ تمام بزرگان اس بات کے قائل تھے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کی غلامی میں کسی شخص کا امتی نبی کے منصب پر سرفراز ہونا آپ کے خاتم النبین ہونے کے مخالف نہیں ہے۔صرف ضمیمہ نمبرے میں جس کا نام ”رسالہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ اور صوفیاء اور اولیاء امت کے ایمان افروز ارشادات“ تھا چالیس سے زائد ایسے حوالے درج کیے گئے تھے جن سے واضح طور پر جماعت احمدیہ کے موقف کی تائید ہوتی تھی۔یہ ضمیمہ شائع بھی ہوا اور انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے جو چاہے اپنی تسلی کر سکتا ہے۔مفتی محمود صاحب کے پاس ان دلائل کا جواب نہیں تھا۔انہوں نے اس مسئلہ سے اپنی جان چھڑانے کے لیے کہا: یہی وجہ ہے کہ جہاں تک دین کے بنیادی مسائل، عقائد اور عملی احکام کا تعلق ہے وہ نہ علم تصوف کا موضوع ہیں اور نہ علمائے امت نے تصوف کی کتابوں کو ان معاملات میں کوئی ماخذ حجت قرار دیا ہے۔اس کے بجائے عقائد کی بحثیں علم کلام میں اور عملی احکام و قوانین کے مسائل علم فقہ میں بیان ہوتے ہیں اور انہی علوم کی کتا بیں اس معاملے میں معتبر سبھی جاتی ہیں۔خود صوفیائے کرام ان معاملات میں انہی علوم کی کتابوں