دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 134
134 بندیوں کے نزدیک دوسرے مسلمان کا فر ہیں۔اس میں پہلا فتویٰ کفر مولوی رشید گنگوہی صاحب اور مولوی محمود الحسن صاحب کا تھا۔کیا مفتی محمود صاحب اس بات سے بھی واقف نہیں تھے کہ رشید گنگوہی صاحب اور محمود الحسن صاحب علماء دیو بند میں نمایاں ترین عالم سمجھے جاتے تھے اور اسی ضمیمہ کے صفحہ نمبر ۲۲ پر حوالہ درج کیا گیا تھا جس میں گنگوہی صاحب کو نعوذ باللہ رسول اللہ کا ثانی اور ان کی قبر کو طور قرار دیا گیا ہے۔محمود الحسن صاحب بھی تو دیو بند کے نمایاں عالم تھے اور اس کے بعد دیو بندیوں کے مزید فتاویٰ کفر درج کیے گئے ہیں۔پھر اس ضمیمہ کے تیسرا باب صفحہ نمبر ۴۱ سے شروع ہوتا ہے اس کا عنوان شیعوں کے کفر پر علماء کا اتفاق ہے۔اس باب میں پہلا فتویٰ حضرت سید عبد القادر جیلانی کا ہے۔اس میں آپ نے شیعہ احباب کے دیگر عقائد کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ ان میں سے کئی نے یہ کہا ہے کہ حضرت علی نبی ہیں اور حضرت علیؓ ان کے معبود ہیں۔پھر ان کے بارے میں حضرت سید عبد القادر جیلانی نے لکھا ہے کہ ” انہوں نے اسلام کو چھوڑ دیا اور ایمان سے الگ ہو گئے۔اب یہ کفر کا فتویٰ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ کیا مفتی محمود صاحب کے نزدیک حضرت سید عبد القادر جیلانی کا نام کوئی معمولی نام تھا ؟ پھر اس کے بعد حضرت مجد دالف ثانی کے کچھ فتاوی درج کیے گئے تھے۔مولوی مفتی محمود صا حب فتاوی عالمگیری کے نام سے تو نا واقف نہیں ہوں گے۔یہ فقہ کی ایک معتبر کتاب ہے۔اس ضمیمہ کے صفحہ نمبر ۵۰ میں اس کتاب کا ایک فتویٰ درج کیا گیا ہے جس میں لکھا ہے کہ جو حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کی خلافت کا انکار کرے وہ کافر ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ شیعہ حضرات حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی خلافت سے انکار کرتے ہیں۔پھر اس کے بعد جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالف مولوی نذیر حسین دہلوی صاحب کا فتویٰ درج ہے جس میں شیعہ حضرات کو کا فرقرار دیا گیا ہے۔پھر صفحہ ۵۵ پر مفتی دیو بند کا فتویٰ درج کیا گیا ہے جس میں شیعہ حضرات کو کافر قرار دیا گیا ہے اور پھر دوسرے علماء دیو بند کے اسی طرح کے فتاویٰ کفر کے حوالے درج کئے گئے تھے مگر مفتی محمود صاحب کسی ایک فتویٰ کے متعلق یہ ثابت نہیں کر سکے کہ وہ جعلی ہے یا وہ کسی معمولی عالم کا ہے اور اپنے مسلک کی نمائندگی نہیں کرتا۔اسی طرح احمد رضا خان بریلوی صاحب کا فتویٰ درج کیا گیا