دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 119
119 with the other sects of Islam they are as good followers of Islam as anybody else who calls himself a Muslim۔(All Pakistan Legal Decisions Vol۔XXI p 307) ترجمه: درخواست گزار کے فاضل وکیل کے تمام دلائل کا لب لباب یہ تھا کہ احمدی مسلمانوں کا ایک فرقہ نہیں ہیں اور آئین انہیں اس بات کا اعلان کرنے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے مگر فاضل وکیل یہ حقیقت نظر انداز کر رہے ہیں کہ احمدی پاکستان کے شہری بھی ہیں اور آئین انہیں بھی اس بات کا اقرار اور اعلان کرنے کی آزادی دیتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔بنیادی سوال یہ ہے کہ درخواست گزار اور ان کا ہم خیال گروہ اس بات کا کس حد تک مجاز ہوسکتا ہے کہ وہ دور سے فرقوں سے اختلاف ہوتے ہوئے احمدیوں کو یہ اعلان کرنے سے روک سکیں۔“ 66 جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں کہ مفتی محمود صاحب یہ دلیل پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ عدالتوں نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے۔اور یہ دلیل اتنی کمزور تھی کہ وہ سیشن عدالت سے اوپر کسی پاکستانی عدالت کا فیصلہ پیش نہیں کر سکے جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ہائی کورٹ نے تو یہ فیصلہ دیا تھا کہ احمدیوں کو ہر طرح اپنے آپ کو مسلمان کہنے کا پورا حق حاصل ہے اور فیصلے میں یہ لکھا تھا کہ اس ضمن میں ماتحت عدالت کے فیصلے جو پیش کیے گئے تھے وہ غیر متعلقہ ہیں اور اس ضمن میں دلیل کے طور پر پیش نہیں کیے جا سکتے۔مفتی محمود صاحب نے غیر ملکی عدالت کا فیصلہ پیش کرنے کی کوشش کی تو انہیں جھوٹ بولنا پڑا۔علامہ اقبال کی تحریروں کے حوالے اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے اپنے موقف کی تائید میں علامہ اقبال کی تحریروں کے حوالے پیش کیے۔انہوں نے کہا: (علامہ اقبال کے پیش کیے جانے والے حوالوں کے تجزیہ سے قبل اس بات کا جائزہ ضروری ہے کہ مختلف مواقع پر علامہ اقبال نے جماعت احمدیہ کے بارے میں کن آراء کا اظہار کیا تھا ؟۔مصنف)