دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 10
10 نقصان پہنچانا تھا۔انشاء اللہ اس الزام کا تفصیلی تجزیہ اس کتاب کے مختلف حصوں میں پیش کیا جائے گا لیکن سب سے پہلے اس بات کا تجزیہ کرنا ضروری ہے کہ یہ الزام جن احباب کی طرف سے لگایا جارہا تھا ان کا اپنا پس منظر کیا تھا۔اس قرارداد پر دستخط کرنے والے بہت سے احباب برصغیر کے معروف سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ہم محض چند مثالیں پیش کر کے اس بات کا تجزیہ کریں گے کہ جب انگریز برصغیر پر قبضہ کر رہا تھا یا جب حکمران تھا تو ان احباب کے خاندان کیا اس وقت انگریز حکمرانوں کے خلاف جدو جہد کر رہے تھے اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند کر رہے تھے یا پھر اس کے برعکس وہ انگریز حکمرانوں کی خدمت میں کوشاں تھے۔اس قرار داد کو پیش کرنے والوں میں ایک نام سردار شیر باز مزاری صاحب کا بھی ہے۔آپ مزاری قبیلہ کے سرداروں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ کے والد میر مراد بخش خان مزاری صاحب ، مزاری قبیلہ کے سردار خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔جب سردار شیر باز مزاری صاحب کے داد شیر محمد صاحب نے ۱۸۳۳ء میں وفات پائی تو ان کے خاندان کے بڑے اور شیر محمد صاحب کے چچا نواب امام بخش صاحب جنہیں تاج برطانیہ نے سر کے خطاب سے بھی نوازا تھا ، ان کے دونوں لڑکوں کو اپنی نگرانی میں لے لیا۔شیر باز مزاری صاحب کے چا دوست محمد خان صاحب کو سر جیمز لائل (James Lyall) نے ڈیرہ غازی خان کے ایک دربار میں پگڑی پہنائی۔شیر باز مزاری صاحب کے والد اور چا سر نواب امام بخش صاحب کے زیر نگرانی ہی رہتے تھے۔اس خاندان نے سلطنت برطانیہ کی بہت سی اہم خدمات سرنجام دی تھیں۔چنانچہ جب ۱۹۱۱ء میں دہلی میں شہنشاہ جارج پنجم کی تاجپوشی پر دربار منعقد کیا گیا تو اس میں بڑے بھائی کی حیثیت سے سردار شیر باز مزاری صاحب کے چچا کو بھی مدعو کیا گیا اور اس موقع پر انگریز حکومت کی طرف سے جو درباریوں کے حالات زندگی ایک کتاب میں شائع کئے گئے ، اس کتاب میں سردار شیر باز مزاری صاحب کے بزرگ میر دوست علی خان صاحب کے متعلق لکھا ہے تسخیر کو ہستان مری و بلوچستان میں آنریبل سرامام بخش خان مرحوم اور آپ کے ( یعنی میر دوست محمد خان صاحب کے دادا میر دوست علی خان نے گورنمنٹ کی ایسی قابل قدر خدمات انجام