دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 108
108 فتوے موجود ہوں۔ان میں سے صرف جماعت احمدیہ تھی جس کا امام بھی موجود تھا اور وہ جماعت کہلانے کی مستحق تھی۔اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے اپنے موقف کے حق میں مثالیں پیش کرنی شروع کیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ نامکمل حقائق پیش کر رہے تھے یا پھر حقائق کو مسخ کر کے پیش کر رہے تھے مگر یہ مثالیں پیش کرتے ہوئے وہ اپنے بنائے ہوئے ریت کے قلعہ کو خود ہی مسمار کر رہے تھے۔اب تک وہ یہ واویلا کرتے رہے تھے کہ قادیانیوں نے غیر احمدی مسلمانوں کو کا فرقرار دیا ہے اور اب وہ یہ دلائل پیش کر رہے تھے کہ ہمیشہ غیر احمدی مولوی صاحبان احمدیوں پر کفر کے فتوے لگاتے چلے آئے تھے۔اگر ایسا ہی تھا اور یقناً ایسا ہی تھا تو پھر احمدیوں سے کس بات کا شکوہ تھا؟ شکایت کا حق تو احمدیوں کو پہنچتا تھا۔مثلاً انہوں نے کہا کہ ۱۹۵۳ء میں بھی میں نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ پیش کیا تھا۔اس مرحلہ پر مفتی محمود صاحب مجبور تھے کہ نامکمل حقائق پیش کرتے۔اگر اس وقت ممبران اسمبلی کے سامنے مکمل حقائق آ جاتے تو مولوی صاحبان کو لینے کے دینے پڑ جاتے۔حقیقت یہ تھی کہ ۱۹۵۳ء میں مولوی صاحبان نے اتنے پاپڑ بیل کر فسادات کی آگ بھڑکائی تا کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔آخر جب مارشل لاء لگ گیا اور تحقیقاتی عدالت نے کام شروع کیا۔اس عدالت نے بجا طور پر یہ سوال اُٹھایا کہ اگر کسی فرقہ کو غیر مسلم قرار دینا ہے تو پہلے یہ تو طے ہونا چاہیے کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ مسلمان کسے کہتے ہیں؟ جج صاحبان نے یہ سوال پاکستان کے جید ترین مولوی صاحبان کے سامنے رکھا۔اتنا سوال سامنے رکھنا تھا کہ سب علماء سٹپٹا کے رہ گئے۔ان کی تمام تر مشقیں اسی سمت میں تھیں کہ کفر کا فتوی کس طرح دینا ہے؟ اتنی صدیوں میں انہیں یہ خیال آیا ہی نہیں کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے۔اب جو مولوی صاحبان نے یہ تعریف بیان کرنی شروع کی تو ہر ایک کی بیان کردہ تعریف دوسروں کی بیان کردہ تعریف سے مختلف تھی۔کوئی دو مولوی صاحبان بھی ایک تعریف پر متفق دکھائی نہیں دیتے تھے۔چنانچہ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں اس سوال کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے : اند