دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 105 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 105

105 اسی طرح حضرت داؤد کی زبور میں دشمنوں کو کتا کہا گیا ہے جیسا کہ لکھا ہے: کیونکہ کتوں نے مجھے گھیر لیا ہے۔بدکاروں کی گروہ مجھے گھیرے ہوئے ہے۔“ (زبور باب ۲۲ آیت ۱۶) یہ فرمودات گالیاں نہیں ہیں اور نہ ہی نا واجب سخت بیانی ہے بلکہ ان مخالفین کی روحانی حالت بیان کی گئی ہے۔مولویوں کی شیریں بیانی کے کچھ نمونے سخت بیانی کا الزام لگاتے ہوئے اس کارروائی کی اشاعت میں خاص طور پر یہ سرخی لگائی گئی ہے علماء کو گالیاں تا کہ یہ تاثر دیا جائے کہ بیچارے مولوی صاحبان تو بہت صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے تھے اور بانی سلسلہ احمدیہ نے ان کے خلاف سخت زبان استعمال کر کے ان کا دل دکھایا۔اس کا ایک پہلو سے اصولی جواب تو پہلے ہی دیا جا چکا ہے لیکن مناسب ہوگا کہ ایک مثال دے کر یہ واضح کیا جائے کہ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف یہ مولوی صاحبان کس قسم کی زبان استعمال کر رہے تھے۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشہور مخالف مولوی محمدحسین بٹالوی صاحب کے صرف ایک مضمون کی مثال پیش کرتے ہیں۔مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب اس وقت کے مشہور مذہبی رسالے اشاعۃ السنہ کے ایڈیٹر تھے اور اس مضمون جس کا عنوان ”شکست“ ہے کا پس منظر یہ ہے کہ عیسائی مشنریوں نے ایک جھوٹا گواہ عبدالحمید کھڑا کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اقدام قتل کا جھوٹا مقدمہ بنایا۔اس وقت کی برٹش گونمنٹ اس مقدمہ میں مدعی بنی۔آریوں نے مفت وکیل مہیا کیا اور مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب بھی ایک جوش کے ساتھ عیسائی مشنریوں کے بنائے ہوئے مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف گواہی دینے کے لیے عدالت میں پیش ہوئے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی نصرت ظاہر ہوئی اور اس جھوٹے گواہ نے بھری عدالت میں اقرار کر لیا کہ میں نے پہلے جھوٹ بولا تھا اور مجھے عیسائی پادریوں نے جھوٹ سکھایا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دشمنوں کو سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔اس خفت سے جھنجلا کر مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے یہ