دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 62 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 62

62 میں ہونے والے فسادات پر قائم کی گئی تھی اور یہ عدالت ۱۹۵۴ء میں قائم ہوئی تھی اور ظاہر ہے کہ اس عدالت کے روبرو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا بیان بھی ۱۹۵۴ء میں قلمبند ہوا تھا لیکن اس واقعہ سے چار سال قبل اخبار زمیندار نے ۱۹۵۰ء میں ہی وہ بیان کیسے شائع کر دیا جو کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے تحقیقاتی عدالت میں بیان دینے کے بعد دیا تھا۔اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے کہا کہ جب احمدیوں سے اس بات کا جواب مانگا گیا کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا تو ان کا جواب تھا کہ ابو طالب بھی مسلمانوں کے محسن تھے لیکن نہ مسلمانوں نے ان کا جنازہ پڑھا تھا اور نہ رسول اللہ علی نے۔اپنی اس دلیل کے حق میں مفتی صاحب الفضل ۲۸ را کتوبر۱۹۵۲ء کا حوالہ پیش کیا۔حقیقت یہ تھی کہ یہ نام نہاد حوالہ اٹارنی جنرل صاحب نے بھی 4 اگست کی کارروائی کے دوران پیش کیا تھا کارروائی صفحہ ۲۶۲) اور اس کارروائی کے دوران یہ غلط بھی ثابت ہو چکا تھا۔کیونکہ اس الفضل میں جہاں اس بات کا ذکر تھا کہ مسلمانوں نے ابو طالب کا جنازہ نہیں پڑھا تھا ، وہاں اس بات کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا تھا۔وہاں تو یہ ذکر چل رہا تھا کہ کوئی مولوی صاحبان قائد اعظم کو کافر کہا کرتے تھے۔مفتی صاحب وہی حوالہ دہرا رہے تھے جو پہلے ہی غلط ثابت ہو چکا تھا اور حیرت ہے کہ تمام ممبران اسمبلی خاموش بیٹھے تھے اور یہ کوئی اُٹھ کر یہ نہیں کہتا تھا کہ کیوں اس جھوٹ کو دہرا رہے ہو جو پہلے ہی غلط ثابت ہو چکا ہے۔قومی اسمبلی کی اس پیشل کمیٹی میں انصاف کے تقاضے کس حد تک پورے ہورہے تھے اس کا اندازہ اس مثال سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔یہاں اس حقیقت کا لکھ دینا بھی ضروری ہے کہ قائد اعظم کی پہلی نماز جنازہ ان کے گھر میں مس فاطمہ جناح کی ہدایت کے مطابق شیعہ امام کی امامت میں ادا کی گئی تھی کیونکہ مسلک کے اعتبار سے قائد اعظم شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔تو اس وقت جو سنی احباب وہاں پر موجود تھے وہ باہر کھڑے رہے تھے اور اس نماز جنازہ میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ان میں پاکستان کی کا بینہ کے سنی اراکین بھی شامل تھے اور بعد میں قائد اعظم کا جنازہ تدفین کے لیے حکومت کے حوالے کیا گیا تھا