دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 44
44 کے پیش کردہ دلائل کا رد پیش کر سکے اور اب ایک اور چھلانگ لگا کر یہ فرما رہے تھے کہ اس مسئلہ پر جو آیات قرآنی ان کے مسلک کی تائید کرتی ہیں ان پر نظر ڈال کر ایک معمولی انسان بھی اسی نتیجہ پر پہنچے گا جو کہ وہ پیش کر رہے ہیں۔انسان معمولی ذہن کا ہو یا کوئی عالی دماغ شخص ہو وہ کسی نتیجہ پر تو بعد میں پہنچے گا پہلے مفتی محمود صاحب وہ چالیس پچاس آیات تو بیان فرماتے جو کہ بقول ان کے مسئلہ ختم نبوت پر ان کے عقیدہ کی تائید کر رہی تھیں۔اپنی تقریر کے آخر تک وہ ایک بھی ایسی آیت پیش نہ کر سکے آخر کیوں؟ مفتی محمود صاحب قرآنی آیات کے ذکر سے گریز کیوں کر رہے تھے؟ یہاں پر یہ سوال بہر حال اُٹھتا ہے کہ مفتی محمود صاحب محض بیسیوں آیات کا ذکر کر کے خاموش کیوں ہو گئے اور اپنے موقف کی تائید میں ایک بھی آیت کریمہ کیوں پیش نہیں کر سکے؟ اس مرحلہ پر یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا دوسرے فریق یعنی جماعت احمدیہ کی طرف سے اس ضمن میں اپنے موقف کے حق میں قرآن کریم سے کوئی دلائل پیش کیے گئے تھے یا نہیں۔حقیقت یہ کہ جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں آیت خاتم النبیین کی تفسیر کے بارے میں پورا ایک علیحدہ باب درج کیا گیا تھا اور اس میں اپنے موقف کی تائید میں مختلف آیات کریمہ پیش کی گئی تھیں اور قرآن کریم سے اس بات کے ثبوت درج کیے گئے تھے کہ قرآن کریم کی رو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امتی نبوت کا دروازہ بند نہیں کیا مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمُ ايَتِي فَمَنِ اتَّقَى وَ أَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔(الاعراف :٣٦) ”اے ابناء آدم ! اگر تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں جو تم پر میری آیات پڑھتے ہوں تو جو بھی تقوی اختیار کرے اور اصلاح کرے تو ان لوگوں پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور وہ غمگین نہیں ہوں گے۔“ (الاعراف: ۳۶) اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے لوگوں کو اور اس زمانہ کے مسلمانوں کو مخاطب کیا جارہا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر مستقبل میں میری طرف سے تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کے رسول آئیں تو جو بھی تقویٰ سے کام لے گا اور اصلاح کرے گا اس پر کوئی خوف نہیں ہوگا۔اگر ایسا