دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 17 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 17

17 کیا تھا جب محمود الحسن صاحب مدینہ منورہ میں قیام پذیر تھے تو اس وقت اتفاقاً سلطنت عثمانیہ کے وزراء انور پاشا اور جمال پاشا مدینہ منورہ کی زیارت کے لیے آئے تھے اور یہ بھی لکھا ہے کہ جب سلطنت عثمانیہ کے یہ وزراء مدینہ آئے تو انور پاشا صاحب نے ایک روز یہ فرمائش کی تھی کہ اشراق کے وقت سب علماء مسجد میں جمع ہو کر تقاریر کریں اور اس موقع پر ہندوستان کے علماء میں سے محمود الحسن صاحب بھی شامل تھے لیکن جب تقریر کرنے کا موقع آیا تو حسین احمد مدنی صاحب نے تقریر کی تھی لیکن اس بات سے بالکل انکار کیا کہ ان وزراء سے محمود الحسن صاحب کے کوئی خفیہ روابط ہوئے تھے یا کوئی سازش تیار کی گئی تھی۔اس کتاب میں حسین احمد مدنی صاحب نے لکھا ہے کہ حکومت نے بعض بدخواہوں کی شکایتوں پر محض بدظنی سے کام لیتے ہوئے محمود الحسن صاحب کو گرفتار کر کے مالٹا بھجوایا تھا۔بیچارے حسین احمد مدنی صاحب کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ شکایتیں کرنے والے خود دار العلوم دیو بند کے مولوی حضرات تھے۔( ملاحظہ کیجیے سفرنامہ اسیر مالٹا مصنفہ حسین احمد مدنی صاحب، شائع کردہ دوست اسوسی ایٹ لا ہور ۱۹۹۶ء) بریلوی فرقہ کے قائدین انگریز حکومت کے کامل وفادار تھے یہ الزام تراشی جماعت احمد یہ تک محدود نہیں۔آزادی کے بعد مولوی حضرات کے کا یہ پسندیدہ مشغلہ رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو انگریزوں کا ایجنٹ اور پر وردہ قرار دیتے رہے ہیں۔بریلوی مسلک کے قائدین میں سے شاہ احمد نورانی صاحب بھی اس قرارداد کے محرکین میں سے ایک تھے۔خود بریلوی حضرات کے بارے میں بہت سے نامی گرامی مولوی حضرات نے جن کا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔بہت سے ثبوت جمع کر کے شائع کیے ہیں کہ بریلوی حضرات دراصل انگریزوں کے پروردہ تھے۔چنانچہ ہم بہت سی مثالوں میں سے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔مولوی الیاس گھمن صاحب نے ایک کتاب فرقہ بریلویت پاک و ہند کا تحقیقی جائزہ تحریر کی ہے۔اس کتاب میں انہوں نے ایک منحنیم باب اس موضوع پر تحریر کیا ہے۔اور اس باب میں انہوں نے بڑی محنت سے یہ ثبوت جمع کیسے ہیں کہ بریلوی حضرات شروع سے ہندوستان میں انگریز حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے کمر بستہ تھے