دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 186 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 186

186 افریقہ اب تک فرنگی شاطروں کے پنجہ استبداد سے نہیں نکل سکا تو اس کی ایک وجہ جماعت احمدیہ کی سرگرمیاں ہیں۔اس کا جواب ہم پہلے ہی دے چکے ہیں۔مفتی صاحب ماضی کی دہائیوں میں بیٹھ کر تقریر فرما رہے تھے۔اس وقت افریقہ سے برطانیہ کا تسلط ختم ہو چکا تھا۔اس دعوئی کو صرف ایک خلاف عقل لاف و گزاف ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔علاوہ ازیں اس دعوی کو پر کھنے کا طریقہ تو بہت سادہ ہے۔مخالفین کو اب تو یہ اطلاع مل چکی ہوگی کہ اب تو افریقہ مکمل طور پر آزاد ہو چکا ہے۔۱۹۷۴ء کے مقابلہ پر اب یعنی ۲۰۱۴ء میں کیا افریقہ میں جماعت احمدیہ کی سرگرمیاں زیادہ ہو گئی ہیں یا کم ہوگئی ہیں۔حقیقت یہ ہے افریقہ کا جو جو ملک آزاد ہوتا گیا وہاں جماعت احمدیہ کی ترقی پہلے سے کئی گنا زیادہ ہوتی گئی اور اس حقیقت کو مخالفین بھی بخوبی جانتے ہیں۔خواہ ان ممالک کی تعداد کو دیکھا جائے جہاں جماعت احمد یہ موجود تھی ، خواہ احمدیوں کی تعداد کو دیکھا جائے ، خواہ جماعت کی طرف سے اشاعت لٹریچر کو دیکھا جائے خواہ تبلیغ پر خرچ ہونے والے بجٹ کو دیکھا جائے۔الغرض کسی بھی حوالے سے دیکھیں یہی صورت سامنے آئے گی کہ ہر ملک میں آزادی کے بعد جماعت احمدیہ کی ترقی کئی گنا زیادہ ہوئی ہے اور کسی ایک جگہ پر بھی کم نہیں ہوئی۔تحریک آزادی اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی تحریکوں میں جماعت احمدیہ کا کردار افریقہ سے نکل کر اب مفتی محمود صاحب نے برصغیر کا رخ کیا۔ان کے تمام دلائل کا خلاصہ یہ تھا کہ جماعت احمدیہ نے اپنے آپ کو ہندوستان کی آزادی کی تحریک ، تحریک پاکستان اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی تحریکوں سے علیحدہ رکھا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کا اس موضوع سے کوئی تعلق نہیں تھا جس پر غور کرنے کے لیے یہ کمیٹی بنائی گئی تھی۔دوسرے کسی گروہ کو اس بناء پر غیر مسلم نہیں قرار دیا جا سکتا کہ اس نے کچھ دہائیاں قبل تحریک پاکستان میں حصہ نہیں لیا تھا۔سب سے اہم تیسرا نقطہ یہ ہے کہ حسب سابق مفتی محمود صاحب کے دلائل سچائی سے عاری تھے۔سب سے پہلے تو انہوں نے یہ دلیل پیش کی کہ جب انگریز ہندوستان پر حکمران تھے تو علماء حق نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ صرف اس کی مخالفت کی