دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 185
185 رہے تھے کہ غلبہ اسلام کے لیے ایسی مہم چلائی جائے کہ جس سے عیسائی مشن بھی گھبرا اٹھیں لیکن جب ایسی مہم چلائی جائے تو مفتی محمود صاحب اور ان کے ہمنوا مولوی صاحبان کیوں پریشان ہو جاتے ہیں؟ بہر حال مفتی محمود صاحب اب ایسی حالت میں تقریر کے گھوڑے پر سوار تھے کہ نہ اُن کے ہاتھ باگ پر تھے اور نہ اُن کے پاؤں رکاب میں تھے۔اس مرحلہ پر انہوں نے ایسی بچگا نہ غلط بیانی کی کہ انسان کو یقین نہیں آتا کہ کسی ملک کے قانون ساز ادارے میں کوئی اس قسم کی خلاف عقل غلط بیانی کرسکتا ہے۔انہوں نے فرمایا: اور جب کچھ لوگ برطانوی وزارت خارجہ سے اس تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ براعظم افریقہ میں قادیانیوں کے اکثر مشن برطانوی مقبوضات ہی میں کیوں ہیں اور برطانیہ ان کی حفاظت کرتی ہے اور وہ دیگر مشنریوں سے زیادہ قادیانیوں پر مہربان ہے تو وزارت خارجہ نے جواب دیا کہ سلطنت کے مقاصد تبلیغ کے مقاصد سے مختلف ہیں۔جواب واضح تھا کہ سامراجی طاقتیں اپنی نو آبادیات میں اپنے سیاسی مفادات اور مقاصد کو تبلیغی مقاصد پر ترجیح دیتی ہیں اور وہ کام عیسائی مبلغین سے نہیں مرزائی مشنوں ہی سے ہوسکتا ہے۔“ ( کارروائی صفہ ۲۰۶۲) کاش مفتی محمود صاحب یہی غور فرما لیتے کہ وہ یہ معرکۃ الآراء تقریر کس سال میں فرما رہے ہیں۔یہ تقریر ۱۹۷۴ء میں کی گئی تھی اور اس وقت Sychelles Islands کے سوا افریقہ کے تمام ممالک سے برطانیہ کا راج ختم ہو چکا تھا۔Sychelles Islands بہت سے جزیروں پر مشتمل ایک ننھا سا ملک ہے جس میں اُس وقت جماعت احمدیہ کا کوئی وجود نہیں تھا۔باقی افریقہ کے وہ ممالک جہاں پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے مضبوط جماعتیں قائم تھیں کب کی آزاد ہو چکی تھیں۔حیرت تو اس بات پر ہے کہ اُس وقت کی قابل قومی اسمبلی میں ایک بھی ایسا شخص موجود نہیں تھا جسے یہ اطلاع مل چکی ہو کہ اب ان افریقی ممالک سے برطانیہ کا راج ختم ہو چکا ہے۔کم از کم وہی صاحب کھڑے ہو کر اس عجیب الخلقت نقطے کی اصلاح فرما دیتے۔مفتی محمود صاحب نے اس حصہ کے آخر میں کارروائی کے صفحہ نمبر ۲۰۶۶ پر یہ نتیجہ نکالا کہ