دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 181
181 ترجمہ: پہلی جنگ عظیم کے دوران احمدی فرقہ کے لوگ مغربی افریقہ کے ساحل تک پہنچے۔جہاں لاگوس اور فری ٹاؤن کے چند نوجوان ان تک پہنچے۔۱۹۲۱ء میں پہلی ہندوستانی مشنری وہاں آئی۔اگر چہ یہ لوگ کسی عقیدہ کا پر چار نہیں کر سکے لیکن ان کا ارادہ مسلم آبادی کے اندرونی علاقوں میں قدم جمانا تھا۔یہ لوگ زیادہ تر جنوبی نائیجریا، جنوبی گولڈ کوسٹ اور سیرالیون میں سرگرم عمل رہے۔ان لوگوں نے ان مسلمان دستوں کو مضبوط کیا جو مملکت برطانیہ کے حد درجہ وفادار تھے اور ان علاقوں میں اسلام کو جدید تقاضوں سے ہمکنار کرتے رہے۔“ (کارروائی ۲۰۶۱،۲۰۶۰) اگر اس غیر معیاری ترجمہ کو نظر انداز بھی کر دیا جائے جسے مفتی محمود صاحب پیش کر رہے تھے تو یہ بات واضح ہے کہ مفتی صاحب جو الزامات لگا رہے تھے اور اس کی تائید میں جو حوالہ پیش کر رہے تھے ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔مفتی محمود صاحب یہ افسانہ پیش فرما رہے تھے کہ براعظم افریقہ میں مغربی طاقتوں کا قبضہ سب سے زیادہ دیر تک قبضہ رہا اور اس کا تعلق وہ اس سے جوڑ رہے تھے کہ وہاں پر جماعت احمدیہ نے برطانوی سامراج کے لیے اڈے قائم کیے تھے اور وہ کیمبرج ہسٹری آف اسلام کا حوالہ پیش کر رہے تھے تا کہ سننے اور پڑھنے والوں کے ذہن پر یہ تاثر جمایا جا سکے کہ یہ الزام صرف ہم نہیں لگاتے بلکہ کیمبرج سے شائع ہونے والی کتاب میں بھی تو یہی لکھا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس حوالہ میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی۔اس حوالہ میں تو صرف یہ لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد ۱۹۲۱ء میں افریقہ کے مغربی ساحل پر جنوبی نائیجیریا ، سیرالیون اور جنوبی گولڈ کوسٹ پر پہنچے اور انہیں وہاں پر ابتدا میں کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی اور وہاں پر پہلے سے ایسے مسلمان موجود تھے جو کہ گورنمنٹ کے وفادار تھے۔احمدیوں کے وہاں آنے سے ان کی تعداد میں اضافہ ہو گیا اور برطانوی اڈے قائم کرنے کا سنسنی خیز الزام بالکل مضحکہ خیز تھا کیونکہ یہ سب علاقے اس وقت مکمل طور پر برطانوی سلطنت کے تحت آچکے تھے جن علاقوں پر پہلے ہی ان کا مکمل قبضہ ہو چکا تھا وہاں پر احمدیوں کے ذریعہ اڈے قائم کرنے کا افسانہ محض ایک بے معنی بات ہے۔ہاں یہ سوال ہر ذہن میں آ سکتا ہے کہ آخر مغربی افریقہ میں جماعت احمدیہ کی کیا سرگرمیاں