دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 150
150 بنے ایک طویل عرصہ گذر چکا تھا بلکہ اب آزادی کے دن قریب آ رہے تھے۔) مفتی محمود صاحب کے بیان سے لگتا تھا کہ وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ احمدیت کے قیام کے وقت صومالی لینڈ پر فرانسیسی تسلط موجود تھا۔( اور حقیقت یہ ہے کہ اٹھارہویں صدی کے نصف آخر میں صومالی لینڈ میں فرانسیسی تسلط بھی موجود نہیں تھا۔فرانسیسی صومالی لینڈ میں یہ تسلط ایک صدی کے بعد انیسویں صدی کے بالکل آخر میں قائم ہوا تھا اور جبوتی میں فرانسیسی ہیڈ کوارٹر قائم ہوا اور اس واقعہ سے قبل ہندوستان برطانوی سلطنت کا حصہ بن چکا تھا۔) پھر مفتی محمود صاحب نے جرمن ایسٹ افریقہ کا بھی ذکر کیا کہ اٹھارہویں صدی کے آخر میں قائم ہو چکا تھا۔یہ تاریخی حقائق بھی غلط تھے کیونکہ جرمن ایسٹ افریقہ اس کے ایک صدی کے بعد انیسویں صدی کے آخر میں روانڈا، برونڈی اور ٹانگانیکا کے علاقوں میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا با قاعده اعلان ۱۸۸۵ء میں کیا گیا تھا۔مفتی محمود صاحب کے اس بیان نے ان کے تاریخی علم کا بھی بھانڈا پھوڑ دیا۔غالباً مفتی صاحب کے یا جس نے بھی انہیں تقریر کا یہ حصہ لکھ کر دیا تھا اس کے ذہن میں ۱۸۸۴ء میں ہونے والی برلن کانفرنس کے جزوی خدو خال تھے۔اس کانفرنس میں یوروپی قوتوں نے افریقہ کی بندر بانٹ کی تھی لیکن حقائق ہرگز اس طرح نہیں تھے جس طرح مفتی صاحب بیان کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ پہلے افریقہ پر قبضہ کیا پھر ہندوستان پر قبضہ کرنے کی فکر پیدا ہوئی کیونکہ ۱۸۸۴ء سے قبل ہی کلکتہ سے خیبر تک برطانوی حکومت قائم ہو چکی تھی۔بہر حال مفتی صاحب نے افریقہ کی تاریخ بیان نہیں کی تھی بلکہ اسے ملیا میٹ کیا تھا۔سب سے بڑی بات یہ کہ اس کا اس موضوع سے کیا تعلق تھا جس پر کارروائی کے لیے یہ پیشل کمیٹی بنائی گئی تھی۔بہر کیف مفتی محمود صاحب افریقہ سے نکلے تو نہر سویز سے جا الجھے اور یہ دعویٰ پیش کیا کہ جب ۱۷۶۹ء میں نہر سویز مکمل ہوئی تو مغربی طاقتوں کا عالمی تسلط اتنا بڑھ گیا کہ اس کے بعد صرف جنوب مغربی ایشیا پر قبضہ کرنا باقی رہ گیا۔یہ حصہ پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ مفتی صاحب اگر بنیادی علم سے بے خبر ہونے کے باوجود عالمی تاریخ کا یہ سیر حاصل تجزیہ پیش کرنے پر ہی مصر تھے تو کیا اس قابل قومی اسمبلی میں ایک بھی شخص ایسا موجود نہیں تھا جو کہ اس بات کی