دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 138
138 اس کی تشریح میں کیا لکھا ہے ملاحظہ کیجیے ملا علی قاری کہتے ہیں کہ اگر ابراہیم زندہ ہوتے اور نبی ہوتے اور عمر بھی نبی ہوتے تو ہر دو آپ کے متعین سے ہوتے جیسا کہ عیسی اور خضر اور الیاس۔تو یہ اللہ تعالیٰ کے قول ختم نبوت کے منافی نہیں کیونکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی 66 نہ آئے گا جو کہ آپ کی ملت کو منسوخ کر دے گا اور آپ کی امت سے نہ ہو۔“ ( موضوعات کبیر اردو تر جمه ناشر نعمانی کتب خانه نومبر ۲۰۰۸ صفحه ۲۶۳) صاف ظاہر ہے کہ مفتی محمود صاحب جس کتاب کو جماعت احمدیہ کے موقف کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کر رہے تھے اس میں تو واضح طور پر جماعت احمدیہ کے موقف کی تائید کی گئی ہے اور جماعت احمدیہ کے مخالفین کو مکمل طور پر رد کیا گیا ہے اور ایسا بھی نہیں تھا کہ مفتی محمود صاحب اس حوالے سے بے خبر تھے۔مندرجہ بالا حوالہ جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں شامل تھا۔اسی حدیث نبوی کو رد کرنے کے لیے مفتی محمود صاحب نے اس کی سند پر یعنی اس کے راویوں پر اعتراض اُٹھانے شروع کیے لیکن ساتھ کے ساتھ وہ یہ بھی اعتراف کر رہے تھے کہ یہی روایت صحیح بخاری میں بھی ایک صحابی کی روایت کے طور پر موجود ہے۔لیکن ایک مرتبہ پھر وہ نامکمل حقائق پیش کر کے اپنے مفروضے میں وزن پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔جس کتاب کا انہوں نے حوالہ دیا تھا اسی میں مذکورہ بالا حدیث کی سند کے بارے میں ایک ضعیف راوی کے ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے لیکن اس کی تین سندیں ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتی ہیں اور اس کی جانب اللہ تعالیٰ کا قول بھی اشارہ کرتا ہے۔“ موضوعات کبیر اردو تر جمه ناشر نعمانی کتب خانہ نومبر ۲۰۰۸ صفحه ۲۶۲) اس مسئلہ پر احادیث صرف جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں درج نہیں کی گئی تھیں بلکہ ایک ضمیمہ میں بھی جس کا نام ” القول المبین فی تفسیر خاتم النبین تھا درج کی گئی تھیں۔اس ضمیمہ پر ان احادیث کی تشریح بھی درج تھی جس کو عموماً مولوی صاحبان کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔مفتی محمود صاحب نے ان میں سے کچھ احادیث کو بیان تو کیا لیکن جماعت احمدیہ کی طرف سے اُٹھائے گئے نکات کا