دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 131 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 131

131 کم از کم وقتی طور پر سراسیمگی پھیل گئی۔مولوی صاحبان کے پاس ان کا کوئی جواب نہیں تھا۔جب سوال و جواب کا مرحلہ ختم ہوا اور وہ خفیہ کارروائی شروع ہوئی جس میں جماعت احمدیہ کا وفد موجود نہیں تھا تو بھی یہ سوال معین اُٹھایا گیا اور ایک ممبر عنایت عباسی صاحب نے کہا تھا: میں جناب! ایک چھوٹی سی گزارش کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ مولانا صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب وہ گواہ کی حیثیت میں پیش ہوں گے تو پھر ان کی حج کی حیثیت مجروح ہو جائے گی لیکن ایک مسئلہ ہے اس میں میں چاہتا ہوں کہ اس کی کسی نہ کسی طریقہ سے وضاحت ہو جائے۔وہ یہ ہے جناب والا! کہ انہوں نے ایک فریق کی حیثیت سے بہت سی باتیں ایسی کی ہیں جن میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہاؤس کے ان اراکین میں سے میں بھی ایک ہوں جن کا علم اس ضمن میں محدود ہے۔مثال کے طور پر انہوں نے ایسے فتوے پیش کیے جن میں ایک خیال کے علماء کی طرف سے دوسرے خیال کے علماء کے خلاف یا مسلمانوں کے خلاف بہت سارے نازیبا اور نا روا الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔اس لیے میں آپ کی وساطت سے جناب مولانا صاحب سے گزارش کروں گا کہ آپ حج بیشک رہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ آپ اگر ایسے دو یا تین علماء صاحبان جو بیٹھے ہوئے ہیں ان کو اگر یہ موقع فراہم کریں کہ کم از کم ان کے اعتراض اور CHARGES کا وہ جواب دیں۔پھر انہوں نے کہا: د نہیں جی مشورے کی بات تو نہیں ہے۔میں تو چاہتا ہوں جناب مجھے تو ایسا فریق چاہئے جو اس ضمن میں تردید کرے یا پھر ہمیں خود اجازت دیں ہم پھر جو کچھ اس ضمن میں درست ہے وہ کہہ دیں۔“ اب یہ بات واضح ہے۔عباسی صاحب کا بیان کردہ نکتہ یہ تھا کہ جماعت احمدیہ کے محضر نامے میں اس کے ضمیمہ میں اور پھر سوال وجواب کے دوران بہت سے ایسے فتوے پیش کیے گئے تھے اور بجا طور پر ان کا خیال تھا کہ ان کا جواب دینا ضروری ہے کیونکہ اگر اسی سوچ کو لے کر آگے بڑھا گیا تو