دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 101
101 کرشن کی دو صفت ہیں ایک رو در یعنی درندوں اور سوروں کو قتل کرنے والا یعنی دلائل اور نشانوں سے۔دوسرے گو پال یعنی گائیوں کو پالنے والا یعنی اپنے انفاس سے نیکیوں کا مددگار اور یہ دونوں صفتیں مسیح موعود کی صفتیں ہیں۔(روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۳۱۷ حاشیه در حاشیه ) مگر بہت سے معترض طبع مولوی صاحبان کے طبائع اس قسم کے لطیف نکات کا ادراک نہیں رکھتے اس لیے استہزاء کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔یہاں ایک بار پھر اس بات کا ذکر ضروری ہے اور وہ یہ کہ قومی اسمبلی نے اس سپیشل کمیٹی کے لیے کام کا یہ دائرہ کار مقرر کیا تھا کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہیں تسلیم کرتا اس کی اسلام میں کیا حیثیت ہے۔لیکن سوال و جواب کے دوران اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی اعانت کرنے والے مولوی صاحبان اس موضوع سے گریز کرتے رہے اور غیر متعلقہ سوالات کر کے وقت ضائع کرتے رہے۔ان سوالات کا جو حشر ہوا اس کا تفصیلی ذکر ہم گذشتہ کتاب میں کر چکے ہیں۔اس خفت در خفت کے ازالہ کے لیے اب اس طرز کارروائی شروع کی گئی تھی کہ جماعت احمدیہ کا وفد وہاں موجود نہیں تھا کہ ان کے پیش کردہ حوالوں اور الزامات کا پول کھول سکے اور مفتی محمود صاحب نے تقریر شروع کی اور یہ دعویٰ پیش کیا کہ ملت اسلامیہ کا موقف پیش کر رہے ہیں اور یہ علی کی کہ وہ اپنے موقف کی تائید میں بیسیوں آیات پیش کر سکتے ہیں لیکن وہ یہ آیات پیش کرنے سے قاصر رہے بلکہ آج تک یہ مولوی صاحبان یہ چالیس ساٹھ آیات پیش نہیں کر سکے۔اب اغلباً مفتی صاحب یہ محسوس کر رہے تھے کہ وہ ایک بے جان موقف پیش کر رہے ہیں اور ان کی یہ کوشش تھی کسی طرح اب موضوع سے مکمل طور پر فرار کا راستہ اختیار کریں اور یہ دعویٰ پیش کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں سچی ثابت نہیں ہوئیں اور اس ضمن میں وہی مثالیں پیش کیں جو کہ سوال و جواب کے دوران پیش کی گئی تھیں اور جن کا جواب بھی دیا جا چکا تھا۔ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کو اس سپیشل کمیٹی کے کام سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا۔یہ ذکر صرف اصل موضوع سے فرار کا ایک ذریعہ تھا۔