دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 8
8 رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔نیز ہر گاہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے ،مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کے ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔نیز ہر گاہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کا نفرنس جو مکتہ المکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر انتظام ۶ اور ۱۰ را پریل ۱۹۷۴ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے ۱۴۰ مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی۔متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنی چاہئے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تا کہ اس اعلان کو مؤثر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے 66 احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترامیمات کی جائیں۔“ قارئین نے اس قرارداد کا متن تو ملاحظہ فرمالیا۔یہ دعویٰ بھی پڑھ لیا کہ اس قرارداد کے محرکین نے بغیر ثبوت کے یہ دعوئی پیش کیا کہ جماعت احمد یہ سامراج کی پیداوار تھی جس دور میں جماعت احمدیہ کا قیام عمل میں آیا اس وقت اسلام اس شدت سے عیسائی پادریوں کے حملوں کی زد میں تھا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اور بڑے بڑے سرکاری افسر ان کاوشوں کی اعانت کر رہے تھے۔اس پس منظر میں حضرت بانی جماعت احمدیہ نے یہ اعلان کیا کہ ان کی آمد کا اولین مقصد کسر صلیب ہے۔کیا عقل اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ سامراج نے اس جماعت کو اس لیے کھڑا کیا تھا تا کہ وہ اس کے مذہب کی بنیاد پر حملہ کریں؟ اس کا فیصلہ ہم پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں۔