مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 44 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 44

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 44 پھر آپ علیہ اسلام ہم کو لے گئے گورداسپور میں ایک کافی وسیع مکان لیا گیا تھا دو منزلہ ، اس میں سب کا قیام تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود او پر کی منزل پر ہی رہتے تھے اور لوگوں کو تو مقدمہ لمبا ہونے وغیرہ کا فکر ہوگا ہی مگر مجھے خوب یاد ہے کہ کبھی آپ علیہ السلام کو متفکر نہیں دیکھا۔آپ علیہ السلام کا چہرہ اسی طرح پر نور اور شاداب رہتا تھا۔ہاں قادیان کو ضرور یاد کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اب جلد قادیان جانے کو دل چاہتا ہے۔میں آپ علیہ السلام کے گھر میں ہوتے وقت اکثر آپ کے قریب رہی ہوں۔ایک دن آپ علیہ السلام شہل رہے تھے اور ساتھ حضرت اماں جان بھی۔میں بھی ساتھ ہی پھرنے لگی۔اس روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اودھ کے (معزول ) بادشاہ ( یا کسی اور لکھنوی شاعر ) نے لکھنو کے فراق میں یہ شعر کہا تھا۔یا تو ہم پھرتے تھے ان میں یا ہوا یہ انقلاب پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کو چہ ہائے لکھنو کوچہ مگر ہم تو قادیان کی یاد میں اب اس کو یوں پڑھتے ہیں کہ یا تو ہم پھرتے تھے ان میں یا ہوا یہ انقلاب پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کو چہ ہائے قادیان مجھے اسی وقت سے یہ شعر یا درہا ہے۔اس شعر کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی