مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 9 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 9

حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ 9 جواب دوں گا اور پھر تم نہیں ڈرو گی۔اپنے بستر سے ہی مجھے پکار لیا کرو۔“ پھر میں نے بستر پر کو ذکر آپ علیہ اسلام کو تنگ کرنا چھوڑ دیا۔جب ڈر لگتا پکار لیتی ، آپ علیہ السلام فوراً جواب دیتے۔پھر خوف اور ڈر لگنا ہی ہٹ گیا۔میرا پلینگ آپ علیہ السلام کے پلنگ کے پاس ہی ہمیشہ رہا۔بجز چند دنوں کے جب مجھے کھانسی ہوئی تو حضرت اماں جان بہلا پھسلا کر ذرا دور بستر بچھوا دیتی تھیں کہ ” تمہارے ابا کو تکلیف ہو گی۔مگر آپ علیہ السلام خود اٹھ کر سوتی ہوئی کا میرا سر اُٹھا کر ہمیشہ کھانسی کی دوا مجھے پلاتے تھے۔آخری شب بھی جس روز آپ علیہ السلام کا وصال ہوا۔میرا بستر آپ کے قریب بالکل قریب ہی تھا کہ بس ایک آدمی ذرا گزر سکے اتنا فاصلہ ضرور ہوتا۔(5) ایک بار میرے چھوٹے بھائی صاحب حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے ، وہ بھی آخر بچہ ہی تھے، اصرار کیا کہ:۔”میرا پلنگ بھی اتبا کے قریب بچھا دیں“ مگر میں نے اپنی جگہ چھوڑ نا نہیں مانا، حضرت اماں جان نے فرمایا کہ ”یہ ہمیشہ پاس لیٹتی ہے کیا ہوگا ، آخر شریف کا بھی دل چاہتا ہے۔ایک دو دن یہ اپنی ضد ذرا چھوڑ دے بھائی کو لیٹنے دے تو کیا حرج ہو جائے گا“ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا نہیں یہ لڑکی ہے اس کا دل رکھنا زیادہ ضروری ہے“