مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 54
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 54 لو بنواؤ اور پہنو، ساری دو پہر میرا جی بے چین رہا ، میرے دل میں جیسے کوئی چنکیاں لے رہا تھا کہ میری بچی اس وقت روپیہ کم ہونے کی وجہ سے اپنا دل مار کر آگئی ؟ میری بے بی ( آصفہ بیگم ) جب مجھ سے (میرے میاں مرحوم کے بعد خصوصاًلا ہور میں تازہ پارٹیشن کے زمانہ میں ) کچھ طلب کرتی یا خواہش کرتی تو اکثر اس کو فرماتیں۔" بے بی تو میری بچی کو نہ ستا یا کر جو تیرا دل چاہے مجھے کہہ، مجھے 66 سے مانگ، میں دوں گی۔اُس کو کچھ نہ کہہ۔“ ان ایام میں حالات کچھ ایسے ویسے ہی تھے ، میں نے کچھ ظاہر نہیں کیا تھا مگر خاموشی سے میرے پاس کچھ روپیہ رکھ جانا کہ لو تم کو ضروریات کی تکلیف نہ ہو تمہیں آج کل کہیں سے خرچ نہیں آرہا۔حضرت سید نا بڑے بھائی صاحب حضرت خلیفتہ المسیح ثانی بچپن سے حضرت اماں جان سے بے حد مانوس تھے اور جوان بچوں والے ہو کر بھی چھوٹی چھوٹی بات جو شکایت ہو یا تکلیف ہوحضرت اماں جان کے پاس ہی ظاہر کرنا ، اور آپ کی محبت ، ہمدردی ، اور مشورہ سے تسکین پانا آپ کا ہمیشہ طریق رہا۔ذراسی بات ہے مگر ماں کی محبت ظاہر کرتی ہے کہ ایک میٹھے تاروں کے گولے سے ہوتے ہیں۔جن کو ”مائی بڑھی کا