مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 77
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 77 جانب سے محبت ہی محبت ، مہر بانی ہی مہربانی دیکھی۔میری ہر کمزوری اور کو تا ہی سے اس صورت سے چشم پوشی کی کہ مجھے نادم تک نہ ہونے دیا۔مجھ پر احسان ہی احسان کئے اور جب میری خدمت کا وقت آیا تو افسوس وہ وقت اتنی جلدی ختم ہو گیا کہ میں ہاتھ ملتی رہ گئی۔(52) انہوں نے عمر بھر ہر موقع پر عزیزوں میں تبلیغ کی حتی کہ مرض الموت میں بھی آخری بارسب رشتہ داروں کو تبلیغی خطوط لکھے اور لکھا کہ میں یہ آخری حجت تمام کرتا ہوں کیونکہ اب میری زندگی کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔“ صبر و استقلال خدا نے خاص طور پر اُن کو عطا کیا تھا۔بے حد عالی حوصلہ تھے۔عجیب دل پایا تھا حالات کے چکر میں پڑ کر تمام عمر ایک طرح قرض وغیرہ کے پھیر میں ، تفکرات میں گزری ، مگر کیا مجال جو کبھی دل چھوڑا ہو یا مزاج خراب ہوا ہو۔اس طرح ہشاش بشاش رہتے گویا اُن سے زیادہ کوئی خوش ہی نہیں۔حضرت خلیقہ مسیح فرمایا کرتے تھے کہ اُن کے دل پر تو مجھے رشک آتا ہے بڑا حوصلہ پایا ہے۔کبھی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو دردناک الفاظ میں دعا کو لکھتے اور پھر نہایت بشاش باتیں کرنے لگتے تو میں اُن سے کہتی تھی کہ آپ میں جب خود اتنا حوصلہ ہے کہ اپنے تئیں اتنا خوش رکھتے