مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 78
حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ 78 ہیں۔اور اب اچھے بھلے ہنس بول رہے ہیں تو اُن کو تکلیف دینے کو ایسے خط کیوں لکھتے ہیں کیونکہ آخر ان کو دکھ ہوگا۔وہ گھبرائیں گے؟" تو فرماتے:۔و و تو روحانی باپ ہیں میرے ، اُن کے دل میں درد پیدا نہ کروں تو اور کس کے کروں؟“ فرمایا کرتے تھے کہ:۔” میری طبیعت ہے کہ میں حتی المقدور غم کو اپنے پر بالکل حاوی نہیں ہونے دیتا۔تھوڑی دیر کے لئے خیال آیا اور نکل گیا۔“ میں جب سوچتی ہوں کہ ان حالات میں جن میں سے ہم گزر رہے تھے ہماری زندگی کتنی خوشگوار تھی تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ آخر کیا دل لے کر پیدا ہوئے تھے۔اتنی زندہ دلی اور بشاشت کسی لڑکے میں بھی نظر نہیں آتی، جس کے حصہ میں اُن سے دسواں حصہ افکار نہیں آئے۔‘ (54) صفائی کا بہت خیال عمر بھر رہا، تقریباً ہر وقت باوضو ر ہتے تھے۔گندگی سے سخت متنفر تھے ، تو آخری علالت میں ایک کشفی حالت پیدا کر کے خدا نے ان کی تسکین کا سامان یوں پیدا کیا کہ جیسا انہوں نے خود بتلایا کہ :۔