مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 74 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 74

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 74 لکھی جائیں۔مگر بیماریوں نے مہلت نہ دی افسوس۔مجھ سے صرف کچھ کم دو سال ہی بڑے تھے ہم دونوں اور مبارک احمد زیادہ ساتھ کھیلے اور وہ تو ساتھ پڑھے بھی۔مگر باوجود اُن کے ہمیشہ محبتانہ سلوک کے اور اُن کے سادہ سادہ بے تکلف طریق کے ان کے علم و فضل ، ان کی انتہائی شرافت کی وجہ سے میرے دل میں ان کی عزت اور ادب بڑھتے ہی گئے۔علمی پہلو کے علاوہ وہ ایک نہایت شریف اسم بامسمی ، نہایت صاف دل، غریب طبیعت ، دل کے بادشاہ ، عالی حوصلہ ، صابر ، متحمل مزاج وجود تھے۔اس لئے نہیں کہ وہ میرے بھائی تھے۔بلکہ اس کو الگ رکھ کر کوئی بطور کچی شہادت کے مجھ سے ان کی بابت سوال کرے، تو میں یہی کہوں گی اور وثوق سے کہوں گی ، کہ وہ ایک ہیرا تھا نایاب، وہ سراپا شرافت تھا ، ایک چاند تھا جو چھپا رہا اکثر اور چھے چھے چپکے چپکے رخصت ہو گیا۔میری ان کی عمر میں بہت کم فرق تھا۔ہر وقت کا ساتھ اکٹھے کھیلنا کو دنا اور چھوٹے بھائی بہت شوخ و شنگ بھی تھے بچپن میں مگر ہم کبھی نہیں لڑے۔مجھے ایک بار بھی کبھی انہوں نے نہیں سنایا بلکہ ہمیشہ کہنا مان لیتے میرا ہی۔شادی ہوئی تو دوہرا رشتہ ہوا میرے میاں کے داماد بنے اور کئی سال بھر بوزینب بیگم ( بیگم حضرت مرزا شریف احمد ) کی علالت کے