مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 73 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 73

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 73 رہی ہے اور ابر رحمت سے قطرے گر رہے ہیں۔(50) میرے چھوٹے بھائی صاحب ( حضرت مرزا شریف احمد صاحب) وہ عالی دماغ ، وہ جو ہر قابل ، وہ تیر تاباں ، افسوس کہ بیماریوں کے بادلوں میں اکثر چھپارہا اور اس کی پوری روشنی ، سے اس کی قابلیت خدا داد سے، دنیا فائدہ نہیں اُٹھا سکی۔انہوں نے ظاہری تعلیم بہت التزام سے یا کالجوں وغیرہ میں حاصل نہیں کی تھی مگر حضرت سیدنا بڑے بھائی صاحب (حضرت خلیفہ اسیح الثانی) کی طرح ان پر بھی خدا تعالیٰ کا خاص فضل اس صورت میں نازل ہوا تھا کہ ان کا علم وسیع تھا ، بہت ٹھوس تھا، جو سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کس وقت پڑھا اور کہاں پڑھا؟ مگر علم دین کے ہر پہلو پر عبور تھا۔عربی ایسی اعلیٰ پڑھاتے تھے کہ چند دن میں پڑھنے والے کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتے۔رائے صائب ہوتی ، مشورہ ہمیشہ دیانتدار نہ ہوتا علم تعبیر اللہ تعالیٰ نے ان کو خاص ودیعت فرمایا تھا۔ایسی اعلیٰ تعبیر دیتے اور اتنی تفصیل سے خوابوں کے متعلق نکات بیان کرتے کہ طبیعت سیر ہو جاتی تھی۔میں اپنے خواب ان کی یہ خصوصیت دیکھ کر ان کو ہی سنایا کرتی تھی۔ایک بار خیال ظاہر کیا کہ میرا دل چاہتا ہے ایک نیا تعبیر نامہ مرتب کروں جس میں نئی چیزوں اور خاص ہماری ملکی اشیاء کی بھی تعبیر میں