مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 72
حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ 72 منجھلی بھا بھی جان بیاہ کر آئیں تو نہ معاشرت نہ طور طریق نہ وضع لباس وغیرہ نہ زبان کچھ بھی مشترک نہ تھا اور آخر نادان کم عمر تھیں وہ بے چاری بھی ، کئی بار اگر وہ تعلقات بگاڑنے والے ہوتے تو بگڑ سکتے تھے مگر ایسی خوش اسلوبی سے نبھایا کہ ایسے نمونے ملتے مشکل سے ہی ہیں۔ادھر سالہا سال سے وہ بیمار بھی چلی آرہی ہیں۔اتنے دراز عرصہ میں انسان اور اتنے کاموں والا ، جس کے کندھوں پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ہوں اور خود بیمار ہو، اس سے غفلت بھی ہوسکتی ہے، کسی وقت بے دھیان بھی ہو سکتا ہے مگر کبھی ان کی خدمت اور دیکھ بھال سے غافل نہ ہوئے۔ذرا ذرا دیر کے بعد اس حال میں کہ ٹانگیں لڑ کھڑا رہی ہیں طبیعت خراب ہے ، ان کی خبر پوچھنے ان کے کمرے میں جا رہے ہیں۔اُن کی خادمات کی خاطریں ہو رہی ہیں، کہ اس بے کس ، بیمار و لا چار کو چھوڑ کر نہ چل دیں، غرض بچپن کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لگا ئی خوب نبھائی۔اولاد کے لئے بہترین شفیق باپ تھے، کسی بات پر سمجھاتے بھی تو نرمی سے کسی امر کی اصلاح مد نظر ہوتی تو دوسرے عزیز کو قریب سے کہتے کہ ذرا میرے فلاں بچے کو تم اس معاملہ میں سمجھانا مجھ سے بھی یہ خدمت لی ہے ، غرض آپ کی گھر یلوزندگی کا بھی ہر پہلو ایک نمونہ تھا۔سوچ کر ہلکی ہلکی بوند میں پڑنے کا ایک سماں تصور میں آتا ہے کہ ٹھنڈی خوشگوار ہوا چل