مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 66 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 66

حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ 66 بستر پر ،حضرت اماں جان میرے پاس ہی تشریف رکھتی تھیں۔آپ آگئے اور حسب عادت جلدی سے عطر کی شیشی کھول کر مجھے لگا دیا، حضرت اماں جان گھبرا کر بولیں میاں یہ کیا کیا ، عطر لگانا ان دنوں میں ٹھیک نہیں (بوجہ ایام عدت ) جس طرح انہوں نے مجھے دیکھا، اور پشت پھیر کر جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئے۔وہ درد بھری نگاہیں میں بھول نہیں سکتی پھر کمرے میں نہیں آئے۔باہر سے ہی رخصت ہو گئے۔(45) میرا پیارا بھائی اپنے رتبہ اور مقام اور قرب الہی کی وجہ سے تو تھا ہی ایک بندہ خاص ، مگر بھائی ہونے کے لحاظ سے بھی وہ ایک بیش بہا ہیرا تھا، جس کا بدل نہیں۔کئی بار مجھے کچھ وقت پیش آئی پارٹیشن سے پہلے بھی اور بعد میں بھی جب اظہار کیا فورا شرح صدر سے بلا توقف مالی امداد بھی کی۔جب ان کا وقت رخصت قریب آ گیا ، تو میرے حالات بھی بدل گئے ، الحمد للہ کہ اب کوئی ایسی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔لطائف بھی سنایا کرتے اور ملنے پر تازہ لطیفے خواہ بچوں کے تماشے ہوں ،ضرور میرے سنانے کو جمع ہوتے ،طبیعت میں مزاح بھی تھا، اور کاموں سے تھک کر یہی دل بہلاوا تھا۔عطر وغیرہ کی باتیں، کوئی لطیفہ ، اپنے سفروں کے لطائف مجھے ضرور سناتے۔یہ مجھ سے ایک چھیڑ تھی ، مذاق