مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 34 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 34

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 34 == تھی ، بیمار رہتیں۔برابر دوا دیتے اور بادام کا شیرہ ملتا تھا وہ نیچے بیٹھی تھی جھلی بھا بھی جان نے سردو کی پھاٹک کھا کر اوپر سے نیچے پھینک دی، اتفاق سے مائی تابی باہر نکل رہی تھیں ان کے سر پر لگی۔غصہ والی بہت تھیں۔فورا جھلی بھا بھی جان کو سر اٹھا کر گھورا اور کہا ایویں جائیں۔یا اچھی جائیں ، تھے ٹھیک یاد نہیں۔یہی الفاظ تھے پنجابی کے جو شاید قدرت اللہ جان مرحوم کی بیوی نے آپ کو بتائے۔آپ علیہ اسلام کو بہت دکھ پہنچا۔مائی تابی کو کچھ نہ کہا بلا کر اسی وقت اتنا کہا ، یہ مائی تابی کو نہیں کہتا چاہیئے تھا اس نے سرور سلطان کو بد دعا نہیں دی یہ بد دعا گویا اس نے میری نسل کو دی۔مجھے اس بات سے سخت تکلیف پہنچی ہے۔دعا بھی ضرور فرمائی ہو گی۔آپ علیہ السلام کے ان الفاظ کا نتیجہ ظاہر ہے کہ بفضلہ تعالیٰ انہیں کے بطن کی اولادوں سے حضرت منجھلے بھائی جان صاحب کی نسل چل رہی ہے۔(20) آہ! وہ بے حد پیاری شفیق ہستی مجھے خواب آیا کہ میں نیچے کے صحن میں پھر رہی ہوں۔گول کمرہ کے دروازے سے مولوی عبد الکریم صاحب نکلے اور کہا بی بی! ابا سے جا کر کہہ دور سول علیہ تشریف لے آئے ہیں اور تمام صحابہ کرام آپ کے منتظر