مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 14
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 14 حضرت اقدس علیہ اسلام جانا نہیں چاہتے تھے۔میں حجرہ میں گئی ایک دن ، تو لاہور کی بابت ذکر تھا۔نانا جان حضرت بھائی صاحب سب پہنچے تھے۔حضرت اقدس علیہ السلام کے دل میں رکاوٹ تھی جب میں جا کر بیٹھ گئی تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا:۔دو جاؤ تم سب ذرا پھر آؤ۔میری بیٹی میرے پاس رہے گی۔“ میرا دل کسی اور بات سے اُس دن کسی سے خفا ہو کر بھرا ہوا تھا۔آپ کا سر پر پیار سے ہاتھ پھیرنا تھا کہ میں رو پڑی آپ نے کہا:۔تم رونے لگیں ؟ تم میرے پاس نہیں رہو گی ؟“ پھر میں نے بتایا کہ:۔اس طرح منجھلی بھا بھی جان نے کہا تھا کہ تم پڑھنے میں دیر لگا 66 دیتی ہو، ہم سے اتنا انتظار کھانے پر نہیں ہوتا میں تو اس لئے روئی تھی۔" آپ نے پھر پیار سے دلاسا دیا اور کہا کہ:۔تم ان کے ساتھ کیوں کھاؤ۔تم میرے ساتھ ہی کھایا کرو اور یہ ڈاک ہے او اس کو پڑھو۔( خطوط اور اخبار تھے ) اور یہاں ہی میرے پاس بیٹھو۔‘‘ میں وہاں بیٹھی پڑھتی رہی۔شام کو میری بھا بھی جان جن کا دل بہت صاف تھا خود ہی آئیں اور دروازے کے باہر سے پکار کر کہا:۔