مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 7
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 7 کرتے کرتے درود پڑھتے نیند آ جاتی ہے، پھر آنکھ کھلے تو وہی سلسلہ۔یہ سب آپ کے الفاظ کی برکت ہے۔میں چھوٹی سی تھی بھائی پیار کرتے ہر کہنا مانتے۔ادھر حضرت اماں جان کا پیار اور سب سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ناز برداریاں اور بے حد خیال رکھنا۔مزاج خراب تھا ایک ساتھ کھیلنے والی بچی نے کہنا نہ مانا۔میں اس سے روٹھ گئی اور چھوٹے بھائی حضرت مرزا شریف احمد صاحب جو ساتھ کھیل رہے تھے میں نے کہا اس سے تم بالکل نہ بولنا۔میں اس سے نہیں بولتی چھوٹے بھائی صاحب بھول کر اس سے بول پڑے۔میں نے ایک چیخ ماری اور یخنی کھائی اتنا صدمہ ہوا کہ رونے میں اکثر بچوں کو سانس رک جاتے ہیں۔سانس رک گیا حضرت اماں جان بھاگ کر آئیں۔گود میں اٹھا کر لائیں دکھ سے پوچھا کیا ہوا وغیرہ میں نے روتے ہوئے کہا کہ:۔میں ایک لڑکی سے خفا تھی میں نے روکا تھا۔ہائے میرا بھائی ہو کر اس سے کیوں بولا۔‘ پھر رونے لگی۔حضرت اماں جان نے رونا شروع کیا کسی خاص جذبہ کے تحت اور غالباً اس جذبے کے تحت کیونکہ وہ بیچاری خود زخم خوردہ تھیں