مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 70
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 70 10 منہ والا ہنس مکھ لڑ کا سرخ چوگوشیہ مخملی ٹوپی پہنے بے حد خوشی کے اظہار کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے کھڑا ہو کر اچھلنے کودنے لگا یہ میرے پیارے منجھلے بھائی تھے، حضرت اقدس علیہ السلام مسکرا رہے ہیں دیکھ کر 66 خوش ہورہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ ” جاٹ ہے جاٹ۔“ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بچپن میں ٹو" کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔حضرت اماں جان روکتی تھیں کہ آب تم ہو نہ کہا کرو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے۔66 ستم رو کو نہیں اس کے منہ سے مجھے تو کہنا پیارا لگتا ہے۔“ پھر ذرا بڑے ہوئے تو خود ہی تو کہنا تو چھوڑ دیا مگر ایسا حجاب رہا کہ تم یا آپ بھی نہ کہا یونہی بات کر لیتے مگر ٹو کی جگہ کچھ نہ کہتے۔طبیعت میں سنجیدگی اور حجاب بہت جلدی پیدا ہو گیا تھا۔بہت کم بولتے اور ا کم ہی بے تکلف ہو کر سامنے آتے تھے ویسے طبیعت میں لطیف مزاح بچپن سے اب تک تھا۔ایسی بات کرتے چپکے سے کہ سب ہنس پڑتے اور خود وہی سامنہ بنائے ہوتے۔حضرت اماں جان فرماتی تھیں کہ :۔اول تو بچوں کو کبھی میں نے مارا نہیں ویسے ہی کسی شوخی پر اگر دھمکایا بھی تو میرا بشری ایسی بات کرتا کہ مجھے ہنسی آجاتی اور غصہ دکھانے کی نوبت بھی نہ آنے پاتی۔“